مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 35- مَا ذَكَرَوا فِي الطَّائِفِ. · حديث 38109
38109- حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم حَاصَرَ أَهْلَ الطَّائِفِ ، فَجَاءَهُ أَصْحَابُهُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَحَرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : اللَّهُمَ اهْدِ ثَقِيفًا ، مَرَّتَيْنِ. قَالَ : وَجَاءَتْهُ خَوْلَةُ ، فَقَالَ : إِنِّي نُبِّئْتُ أَنَّ بِنْتَ خُزَاعَةَ ذَاتُ حُلِيٍّ ، فَنَفِّلَنِّي حُلِيَّهَا إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْك الطَّائِفَ غَدًا ، قَالَ : إِنْ لَمْ يَكُنْ أَذِنَ لَنَا فِي قِتَالِهِمْ ؟ فَقَالَ رَجُلٌ ، نُرَاهُ عُمَرَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا مُقَامُك عَلَى قَوْمٍ لَمْ يُؤْذَنْ لَك فِي قِتَالِهِمْ ؟ قَالَ : فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ ، فَنَزَلَ الْجِعْرَانَةَ ، فَقَسَّمَ بِهَا غَنَائِمَ حُنَيْنٍ ، ثُمَّ دَخَلَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ.
حضرت ابو الزبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں تو بنو ثقیف کے نیزوں نے جلا ڈالا ہے لہذا آپ اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف بد دعا کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! بنوثقیف کو ہدایت دے۔دو مرتبہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت خولہ حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ مجھے خبر ملی ہے کہ خزاعہ کی بیٹی بہت زیورات والی ہے ۔ لہذا اگر اللہ تعالیٰ کل آپ کو طائف فتح کروا دیں تو آپ اس کے زیورات مجھے ہدیہ فرما دیجئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان سے لڑائی کی جازت ہی نہ دی ہو؟ اس پر ایک آدمی نے ۔۔۔۔ہمارے خیال میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔۔۔ ۔کہا۔۔۔۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جس قوم کے بارے میں آپ کو لڑائی کی اجازت نہیں دی گئی اس پر آپ نے پڑاؤ کیوں ڈالا ہوا ہے؟ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( آ کر ) مقام جعرانہ میں اترے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی غنیمتوں کوتقسیم فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں سے عمرہ کے لئے داخل ہو گئے پھر ( عمرہ کے بعد ) مدینہ منورہ چلے گئے۔
أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 35- What was mentioned in the sect. · Hadith 38109
