مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 33- غَزْوَةُ خَيْبَرَ. · حديث 38049
38049- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ ، قَالَ : حدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ ، عْن عَلِيٍّ ، قَالَ : سَارَ رَسُولُ اللهِ إِلَى خَيْبَرَ ، فَلَمَّا أَتَاهَا بَعَثَ عُمَرَ وَمَعَهُ النَّاسُ ، إِلَى مَدِينَتِهِمْ ، أَوْ إِلَى قَصْرِهِمْ ، فَقَاتَلُوهُمْ ، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنِ انْهَزَمَ عُمَرُ وَأَصْحَابُهُ ، فَجَاءَ يُجَبِّنُهُمْ وَيُجَبِّنُونَهُ ، فَسَاءَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ، فَقَالَ : لأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، يُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ لَهُ ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ ، فَتَطَاوَلَ النَّاسُ لَهَا ، وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ ، يُرُونَهُ أَنْفُسَهُمْ ، رَجَاءَ مَا قَالَ ، فَمَكَثَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ عَلِيٌّ ؟ فَقَالُوا : هُوَ أَرْمَدُ ، فَقَالَ : ادْعُوهُ لِي ، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ ، فَتَحَ عَيْنَيَّ ، ثُمَّ تَفَلَ فِيهِمَا ، ثُمَّ أَعْطَانِي اللِّوَاءَ ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ سَعْيًا ، خَشْيَةَ أَنْ يُحْدِثَ رَسُولُ اللهِ فِيهِمْ حَدَثًا ، أَوْ فِي ، حَتَّى أَتَيْتُهُمْ فَقَاتَلْتُهُمْ ، فَبَرَزَ مَرْحَبٌ يَرْتَجِزُ ، وَبَرَزْت لَهُ أَرْتَجِزُ كَمَا يَرْتَجِزُ ، حَتَّى الْتَقَيْنَا ، فَقَتَلَهُ اللَّهُ بِيَدَي ، وَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ ، فَتَحَصَّنُوا وَأَغْلَقُوا الْبَابَ ، فَأَتَيْنَا الْبَابَ ، فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى فَتَحَهُ اللَّهُ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف سفر فرمایا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں پہنچ گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو اہل خیبر کے شہر یا قلعہ کی طرف روانہ فرمایا۔ انہوں نے ( جاکر ) ان کے ساتھ لڑائی کی ۔لیکن کچھ ہی دیر میں یہ مسلمانوں کا گروہ۔۔۔۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ۔۔۔۔پسپا ہو گیا۔ پس حضر ت عمر رضی اللہ عنہ ، اپنے ساتھیوں کو اور ان کے ساتھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بزدلی کا طعنہ دیتے ہوئے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں )واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ناگوار گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔’’اب میں ضرور یہود کی طرف ایسا آدمی بھیجوں گا جو اللہ اوراس کے رسول سے محبت کرتا ہو گا اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہوں گے ۔ وہ ان کے ساتھ لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالی ٰاس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائیں گے ۔ وہ آدمی بھاگنے والانہیں ہوگا ۔‘‘ ( یہ بات سن کر ) بہت سے لوگ اس کے امیدوار بن گئے اوراپنی گردنیں دراز کرنے لگے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے ہوئے کو اپنے بارے میں دیکھنے کے منتظر ہو گئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر ارشاد فرمایا علی کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا۔ وہ تو آشوب چشم میں مبتلا ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس کو میرے پاس بلاؤ ۔ پھر جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھیں کھولیں اور ان میں اپنا لعاب مبارک ڈالا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جھنڈا عطا فرمایا۔ اور میں اس جھنڈے کو لے کر دوڑتا ہوا چلا کہ مبادا میرے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی خیال نہ آ جائے یا کسی اور کے بارے میں کوئی خیال نہ آ جائے ۔ یہاں تک میں دشمنوں کے پاس پہنچ گیا اور میں نے ان کے ساتھ قتال کیا۔ مرحب یہودی رجز یہ اشعار پڑھتا ہوا مبارزت کے لئے آیا تو بھی اس کے جواب میں رجز یہ اشعار پڑھتے ہوئے مبارزت کے لئے باہر نکلا پھر ہماری باہم مڈ بھیڑ ہوگئی تو اللہ تعالی ٰنے اس کو میرے ہاتھ سے قتل کروا دیا۔اور اس کے ساتھی پسپا ہو گئے اور قلعہ بند ہو گئے انہوں نے دروازہ بند کر لیا۔ ہم دروازہ پر پہنچے پس میں نے مسلسل دروازہ پرضرب لگائی یہاں تک کہ اللہ تعالی ٰنے اس کو کھول دیا۔
عَلِيٍّ، ← أَبِي مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← عُبَيْدِ اللَّهِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 33- The Battle of Khyber. · Hadith 38049
