38007- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، قَالَ : حدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : بَعَثَتْ قُرَيْشٌ خَارِجَةَ بْنَ كُرْزٍ يَطَّلِعُ لَهَمْ طَلِيعَةً , فَرَجَعَ حَامِدًا يُحْسِنُ الثَّنَاءَ , فَقَالُوا لَهُ : إِنَّك أَعْرَابِيٌّ ، قَعْقَعُوا لَكَ السِّلاَحَ فَطَارَ فُؤَادُكَ ، فَمَا دَرَيْتَ مَا قِيلَ لَكَ وَمَا قُلْتَ ، ثُمَّ أَرْسَلُوا عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ فَجَاءَهُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ , مَا هَذَا الْحَدِيثُ ؟ تَدْعُو إِلَى ذَاتِ اللهِ ، ثُمَّ جِئْتَ قَوْمَكَ بِأَوْبَاشِ النَّاسِ , مَنْ تَعْرِفُ وَمَنْ لاَ تَعْرِفُ , لِتَقْطَعَ أَرْحَامَهُمْ ، وَتَسْتَحِلَّ حُرْمَتَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمْ آتِ قَوْمِي إِلاَّ لأَصِلَ أَرْحَامَهُمْ , يُبَدِّلُهُمُ اللَّهُ بِدِينٍ خَيْرٍ مِنْ دِينِهِمْ , وَمَعَايِشَ خَيْرٍ مِنْ مَعَايِشِهِمْ , فَرَجَعَ حَامِدًا بِحُسْنِ الثَّنَاءَ. قَالَ : قَالَ إِيَاسٌ ، عَنْ أَبِيهِ : فَاشْتَدَّ الْبَلاَءُ عَلَى مَنْ كَانَ فِي يَدِ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم عُمَرَ ، فَقَالَ : يَا عُمَرُ , هَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي إِخْوَانَكَ مِنْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ ؟ فَقَالَ : لاَ ، يَا نَبِيَّ اللهِ , وَاللهِ مَا لِي بِمَكَّةَ مِنْ عَشِيرَةٍ , غَيْرِي أَكْثَرُ عَشِيرَةً مِنِّي , فَدَعَا عُثْمَانَ فَأَرْسَلَهُ إِلَيْهِمْ ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، حَتَّى جَاءَ عَسْكَرَ الْمُشْرِكِينَ , فَعَبِثُوا بِهِ ، وَأَسَاؤُوا لَهُ الْقَوْلَ ، ثُمَّ أَجَارَهُ أَبَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، ابْنُ عَمِّهِ ، وَحَمَلَهُ عَلَى السَّرْجِ وَرَدِفَهُ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَ : يَابْنَ عَمِّ , مَا لِي أَرَاك مُتَحَشِّفًًا ؟ أَسْبِلْ ، قَالَ : وَكَانَ إِزَارُهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : هَكَذَا إِزْرَةُ صَاحِبِنَا , فَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا بِمَكَّةَ مِنْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ ، إِلاَّ أَبْلَغَهُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم. قَالَ سَلَمَةُ : فَبَيْنَمَا نَحْنُ قَائِلُونَ ، نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم : أَيُّهَا النَّاسُ , الْبَيْعَةَ ، الْبَيْعَةَ , نَزَلَ رُوحُ الْقُدُسِ ، قَالَ : فَسِرْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَهُوَ تَحْتَ شَجَرَةِ سَمُرَةٍ ، فَبَايَعْنَاهُ , وَذَلِكَ قَوْلُ اللهِ : {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} قَالَ : فَبَايَعَ لِعُثْمَانَ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرَى ، فَقَالَ النَّاسُ : هَنِيئًا لأَبِي عَبْدِ اللهِ , يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَنَحْنُ هَاهُنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : لَوْ مَكَثَ كَذَا وَكَذَا سَنَةً ، مَا طَافَ حَتَّى أَطُوفَ.
حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے خارجہ بن کرز کو اپنے لئے جاسوسی کرنے کےلیے بھیجا۔تو وہ ( صحا بہ کرام رضی اللہ عنہ کی) تعریفیں کر تے ہوئے واپس پلٹا۔تو قریش نے اس سےکہا۔تو دیہاتی آدمی ہے ۔انہوں نے تجھے اسلحہ کی جھنکار سنائی تو تیرا دل اڑگیا۔ پس تجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ تجھے کیا کیا گیا اور تو نے کیا کہا۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اے محمد! یہ کیا بات ہے؟ تو خدا کی ذات کی طرف بلاتا ہے اور پھر تو اپنی قوم کے پاس اوباش لوگوں کو لاتا ہے۔ جن میں سے بعض کو تو جانتا ہے اور بعض کونہیں جانتا ۔۔۔۔ تا کہ تو ان سے قطع رحمی کرے اور ان کی حرمتوں ،خون اور اموال کو حلال کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تو اپنی قوم کے پاس صرف اس لئے آیا ہوں تا کہ میں ان سے صلح رحمی کروں ۔ اللہ ان کوان کے دین کے بدلہ ایک اس سے بہتر دین اور ان کی معیشت سے بہتر معیشت دیتا ہے ۔ پس(یہ بات سن کر) وہ بھی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹا۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، مشرکین کے تابع میں جو مسلمان موجود تھے ان پر مصائب کی شدت اور بڑھ گئی ۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اشارہ فرمایا۔اے عمر! کیا اپنے مسلمان قیدی بھائیوں کو تم اپنی طرف سے پیغام پہنچا ( آؤ) گے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عرض کیا ۔اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا تو مکہ میں کوئی بڑا خاندان نہیں ہے ۔ جبکہ میرے علاوہ لوگ مجھ سے زیادہ وہاں خاندانی روابط رکھتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کو اہل مکہ کی طرف روانہ کیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، اپنی سواری پر سوار ہو کر نکلے یہا ں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ مشرکین کے لشکر کے پاس پہنچے ۔ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ سے لا یعنی با تیں شروع کیں ۔ اور بیہودہ گفتگو کی ۔لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ابان بن سعد بن العاص نے ۔۔۔ جو حضرت عثمان کا چچازاد تھا ۔۔۔ پناہ دی ۔ اور انہیں اپنی زین پر سوار کیا اور خود آپ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سوار ہو گیا پھر جب یہ کچھ آ گے بڑھے تو اس نے کہا۔اے چچازاد! کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پرانے کپڑے پہنے ہو ئے دیکھ رہا ہوں؟ شلوار نیچے کرو(یعنی ٹخنے ڈھانپ لو)۔راوی کہتے ہیں:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ازار نصف پنڈلی تک تھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواباً اس کو ارشاد فرمایا: ہمارے صاحب ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ازار بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مسلمان قیدیوں میں سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچائے بغیر نہیں چھوڑا( یعنی سب کو پیغام دیا ) حضرت سلمہ فرماتے ہیں ۔ اس دوران جبکہ ہم قیلولہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے آواز دی۔اے لوگو! بیعت ( محمد ) بیعت! روح القدس نازل ہوئےہیں۔راوی کہتے ہیں:پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ہم نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم سےبیعت کی۔ اسی کاذکر اس آیت میں ہے۔ (لقد رضی الله عن المؤمنين اذ يبايعونك تحت الشجرة) راوی کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لئے بیعت اس طرح لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ لیا۔ لوگ کہنے لگے۔ ابوعبد اللہ کی خوش قسمتی ہے ۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے اور ہم یہاں پر ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر وہ کئی سال بھی وہاں رہے تب بھی طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کروں گا۔
أَبِيهِ ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← موسى بن عبيدة ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 30- The Battle of Hudaybiyah. · Hadith 38007