مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 26- هَذَا مَا حَفِظَ أَبُو بَكْرٍ فِي أُحْدٍ ، وَمَا جَاءَ فِيهَا. · حديث 37941
37941- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ ، أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَطْلُبُهُ ، لاَ تَدْرِي مَا صَنَعَ ، قَالَ : فَلَقِيَتْ عَلِيًّا ، وَالزُّبَيْرَ ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ : اُذْكُرْهُ لأُمِّكَ ، وَقَالَ الزُّبَيْرُ : لاَ ، بَلَ اُذْكُرْهُ أَنْتَ لِعَمَّتِكَ ، قَالَتْ : مَا فَعَلَ حَمْزَةُ ؟ قَالَ : فَأَرَيَاهَا أَنَّهُمَا لاَ يَدْرِيَانِ ، قَالَ : فَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : إِنِّي لأَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا ، قَالَ : فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا ، وَدَعَا لَهَا ، قَالَ : فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَلَيْهِ ، وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ، فَقَالَ : لَوْلاَ جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ حَوَاصِلِ الطَّيْرِ وَبُطُونِ السِّبَاعِ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَى فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ ، قَالَ : فَيَضَعُ تِسْعَةً وَحَمْزَةَ ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ ، ثُمَّ يُرْفَعُونَ وَيُتْرَكُ حَمْزَةُ ، ثُمَّ يُجَاءُ بِتِسْعَةٍ ، فَيُكَبِّرُ عَلَيْهِمْ سَبْعًا حَتَّى فَرَغَ مِنْهُمْ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اُحد کے دن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے تو حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا انہیں تلاش کرنے کو آ ئیں ۔ انہیں خبر نہیں تھی کہ کیا ہوا ہے ۔ راوی کہتے ہیں ان کی ملاقات حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا۔ اپنی والدہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا ۔نہیں! بلکہ آپ انہیں اپنے چچا کے بارے میں بتاؤ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی ۔ حمز ہ رضی اللہ عنہ نے کیا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں ان دونوں (علی رضی اللہ عنہ ، زبیر رضی اللہ عنہ ) نے اُسے یہ ظاہر کیا کہ انہیں خبر نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: مجھے اس کی عقل پر خوف ہے ۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک ان کے سینہ پر رکھا اور ان کے لئے دُعا کی ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے اناللہ پڑھا اور رو پڑیں ۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے ۔ در آنحالیکہ ان کا مثلہ کیا گیا تھا ۔ اور فرمایا: اگر عورتوں کا رونا دھونا نہ ہوتا تو میں ان ( حمزہ ) کو یونہی چھوڑ دیتا تا کہ یہ میدان محشر میں پرندوں کے پوٹوں اور درندوں کے پیٹوں سے جمع ہو کر آ تے ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء کے بارے میں حکم دیا: اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر نماز جنازہ پڑھنی شروع کی ۔ راوی کہتے ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو افراد کو اور ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر سات تکبیرات میں جنازہ پڑھا۔ پھر باقی میتیں اٹھادی گئیں اور حمز ہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا گیا پھر نوافراد کو لایا گیا اور ان پر سات تکبیرات کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازہ پڑھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فارغ ہو گئے۔
ثُمَّ أَمَرَ بِالْقَتْلَى فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَيْهِمْ ← لَوْلاَ جَزَعُ النِّسَاءِ لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ حَوَاصِلِ الطَّيْرِ وَبُطُونِ السِّبَاعِ ← ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَلَيْهِ وَقَدْ مُثِّلَ بِهِ ← فَاسْتَرْجَعَتْ وَبَكَتْ ← فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِهَا وَدَعَا لَهَا ← إِنِّي لأَخَافُ عَلَى عَقْلِهَا ← فَجَاءَ النَّبِيُّ ← فَأَرَيَاهَا أَنَّهُمَا لاَ يَدْرِيَانِ ← مَا فَعَلَ حَمْزَةُ ← الزُّبَيْرُ لاَ بَلَ اُذْكُرْهُ أَنْتَ لِعَمَّتِكَ ← عَلِيٌّ لِلزُّبَيْرِ اُذْكُرْهُ لأُمِّكَ ← فَلَقِيَتْ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ ← لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ أَقْبَلَتْ صَفِيَّةُ تَطْلُبُهُ لاَ تَدْرِي مَا صَنَعَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← يَزِيدُ: ← أَبُو بَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 26- This is what Abu Bakr preserved in anyone, and what he said about it. · Hadith 37941
