مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 25- غَزْوَةُ بَدْرٍ الْكُبْرَى ، وَمَا كَانَتْ ، وَأَمْرُهَا. · حديث 37845
37845- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : مَا تَقُولُونَ فِي هَؤُلاَءِ الأُسَارَى ؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللهِ ، قَوْمُكَ وَأَصْلُكَ ، اسْتَبْقِهِمْ وَاسْتَتِبْهُمْ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ ، قَدِّمْهُمْ نَضْرِبْ أعَنَاقَهُمْ ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَنْتَ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْحَطَبِ ، فَأَضْرِمَ الْوَادِيَ عَلَيْهِمْ نَارًا ، ثُمَّ أَلْقِهِمْ فِيهِ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ ، قَالَ ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ ، ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ. فَقَالَ أُنَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ ، وَقَالَ أُنَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عُمَرَ ، وَقَالَ أُنَاسٌ : يَأْخُذُ بِقَوْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ لَيُلَيِّنُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ ، حَتَّى تَكُونَ أَلْيَنَ مِنَ اللَّبَنِ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيُشَدِّدُ قُلُوبَ رِجَالٍ فِيهِ ، حَتَّى تَكُونَ أَشَدَّ مِنَ الْحِجَارَةِ ، وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَثَلُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ كَمَثَلِ عِيسَى ، قَالَ : {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ مَثَلُ مُوسَى ، قَالَ {رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، فَلاَ يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الأَلِيمَ} وَإِنَّ مَثَلَكَ يَا عُمَرُ مَثَلُ نُوحٍ ، قَالَ : {رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا} أَنْتُمْ عَالَةٌ فَلاَ يَنْفَلِتَنَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِلاَّ بِفِدَاءٍ ، أَوْ ضَرْبَةِ عُنُقٍ. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِلاَّ سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ الإِسْلاَمَ ، قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَمَا رَأَيْتُنِي فِي يَوْمٍ أَخْوَفَ أَنْ تَقَعَ عَلَيَّ حِجَارَةٌ مِنَ السَّمَاءِ مِنِّي فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، حَتَّى قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : إِلاَّ سُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ} إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
حضرت عبداللہ سےروایت ہے کہ جب بدر کا دن تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :تم لوگوں کی اسیران بدر کے بارے میں کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (یہ لوگ) آپ کی قوم وقبیلہ کے ہیں ۔ آپ ان کی بقاء اور ان کی توبہ کے طلب گار بنیے ۔شاید کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کر لے (یعنی ہدایت دے دے)۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور انہوں نے آپ کو ( شہر سے) باہر نکالا ۔ انہیں آگے کر یں تا کہ ہم ان کی گردن زنی کر یں ۔ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ایسی وادی میں ہیں جہاں لکڑیاں بہت زیادہ ہیں ۔ پس آپ ان پر اس وادی کو آگ سے دہکا د یں پھر آپ انہیں اس دہکتی آگ میں ڈال دیں ۔ ( اس پر ) عباس نے کہا۔ اللہ تیرے رشتہ کو کاٹ دے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور صحا بہ رضی اللہ عنہ کو کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے ۔ لوگوں نے کہنا شروع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول لیں گے اور ( بعض) لوگوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول لیں گے ۔ اور ( بعض )لوگوں نے کہا۔ آپ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ کا قول لیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ان ( قیدیوں ) کے بارے بعض مردوں کے دلوں کو نرم کر دیا ہے ۔ یہاں تک وہ دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو گئے ہیں ۔اور کچھ لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں سخت کر دیا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں اوراے ابو بکر ! تیری مثال تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح ہے ۔انہوں نے کہا تھا ۔( فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ).اور تیری مثال ۔اے ابوبکر ! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے ۔انہوں نے کہا تھا۔( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ).اور تیری مثال ،اے عمر رضی اللہ عنہ ! موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے ۔ انہوں نے کہا تھا۔( رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، وَاشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ ، فَلاَ يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوْا الْعَذَابَ الأَلِيمَ)اور اے عمر! تیری مثال حضرت نوح علیہ السلام کی طرح ہے انہوں نے کہا تھا ۔( رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَى الأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا).تم لوگ ( اس وقت ) مفلس ہو پس ان میں سے کوئی بھی رہائی نہیں پائے گا۔ مگر فدیہ کے ساتھ یا گردن مارنے کے ساتھ ۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! سہیل بن بیضاءکومتشنیٰ کر دیجئے کیونکہ میں نے اس کو اسلام کا ذکر کرتے ہوئے سُنا ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمالیا ’’پس مجھے اس دن سے زیادہ کسی دن یہ خوف لائق نہیں ہوا کہ ( کہیں) مجھ پر آسمان سے پتھر (نہ ) گر پڑیں ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سہیل بن بیضا ءکواستثناء ہے۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ) آخر آیت تک۔
لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 25- The Battle of Badr al-Kubra, and what it was, and its command. · Hadith 37845
