مصنف ابن أبي شيبة · 39- كِتَابُ الْمَغَازِي ‹ 25- غَزْوَةُ بَدْرٍ الْكُبْرَى ، وَمَا كَانَتْ ، وَأَمْرُهَا. · حديث 37833
37833- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ أَخِيهِ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ الْمُسْلِمُونَ بَدْرًا وَأَقْبَلَ الْمُشْرِكُونَ ، نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ ، فَقَالَ : إِنْ يَكُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ الْقَوْمِ خَيْرٌ فَعِنْدَ صَاحِبِ الْجَمَلِ الأَحْمَرِ ، إِنْ يُطِيعُوهُ يَرْشُدُوا ، فَقَالَ عُتْبَةُ : أَطِيعُونِي ، وَلاَ تُقَاتِلُوا هَؤُلاَءِ الْقَوْمَ ، فَإِنَّكُمْ إِنْ فَعَلْتُمْ لَمْ يَزَلْ ذَاكَ فِي قُلُوبِكُمْ ، يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى قَاتِلِ أَخِيهِ وَقَاتِلِ أَبِيهِ ، فَاجْعَلُوا فِيَّ جُبْنَهَا وَارْجِعُوا. قَالَ : فَبَلَغَتْ أَبَا جَهْلٍ ، فَقَالَ : انْتَفَخَ وَاللهِ سَحْرُهُ حَيْثُ رَأَى مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ ، وَاللهِ مَا ذَاكَ بِهِ ، وَإِنَّمَا ذَاكَ لأَنَّ ابْنَهُ مَعَهُمْ ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ أَكْلَةُ جَزُورٍ لَوْ قَدَ الْتَقَيْنَا ، قَالَ : فَقَالَ عُتْبَةُ : سَيَعْلَمُ الْمُصَفِّرُ اسْتِهِ مَنِ الْجَبَانُ الْمُفْسِدُ لِقَوْمِهِ ، أَمَا وَاللهِ إِنِّي لأَرَى تَحْتَ الْقِشَعِ قَوْمًا لَيَضْرِبُنَّكُمْ ضَرْبًا يَدْعُونَ لَكُمُ الْبَقِيعَ ، أَمَا تَرَوْنَ كَأَنَّ رُؤُوسَهُمْ رُؤُوسُ الأَفَاعِي ، وَكَأَنَّ وُجُوهَهُمَ السُّيُوفُ ؟ قَالَ : ثُمَّ دَعَا أَخَاهُ وَابْنَهُ وَمَشَى بَيْنَهُمَا ، حَتَّى إِذَا فَصَلَ مِنَ الصَّفِّ دَعَا إِلَى الْمُبَارَزَةِ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان بدر میں اُترے اور مشرکین سامنے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ بن ربیعہ کو دیکھا۔ وہ اپنے سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار تھا۔ تو فرمایا: اگر کفار میں سے کسی کے پاس خیر ( کی بات) ہے تو وہ اس سُرخ رنگ والے اونٹ والے کے پاس ہے ۔ اگر یہ کفار اس کی بات مان لیں گے تو اچھے رہیں گے۔ عتبہ نے (لوگوں سے) کہا۔ تم لوگ میری بات مانو اور ان لوگوں ( مسلمانوں ) سے لڑائی نہ کرو ۔ کیونکہ اگر تم نے لڑائی لڑی تو یہ بات تمہارے دلوں میں مسلسل باقی رہے گی ۔ یعنی ایک آدمی اپنے بھائی اور اپنے والد کے قاتل کو ( زند ہ) دیکھتا پھرے گا۔ تم لوگ اس لڑائی کی بزدلی مجھ پر ڈال دواورلوٹ جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں، یہ بات ابو جہل تک پہنچی تو اس نے کہا: بخدا! عتبہ نے جب سے محمد اور اس کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے بز دل ہو گیا ہے ۔ بخدا! ( جو یہ کہہ ر ہا ہے) یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اس کا بیٹا ان کے ہمراہ ہے ۔ حالانکہ اس کو معلوم بھی ہے کہ اگر ہم محمد اور اس کے اصحاب سے لڑ یں تو وہ کم عد د لوگ ہیں ۔ راوی کہتے ہیں: عتبہ نے کہا :عنقریب اپنی سرین کو زر دکر نے والا جان لے گا کہ اپنی قوم میں فساد ڈالنے والا کون شخص بزدل ہے ۔ بخدا!میں تو ان ملبوسات کے نیچے ایسی قوم کو دیکھ رہا ہوں جوتمہیں ضرور بالضرور اس طرح مارے گی کہ وہ تمہارے لئے بقیع کو پکار یں گے ۔کیا تمہیں دکھائی نہیں دیتا کہ ان کے سر، سانپوں کے سروں کی طرح ( بلند ) ہیں اور ان کے چہرے تلواروں کی طرح ہیں؟ راوی کہتے ہیں: پھر اس نے اپنے بھائی اور اپنے بیٹے کو بلایا اور ان کے درمیان چلنے لگا یہاں تک کہ جب وہ صف سے نکل گیا تو اس نے مبارزت کی دعوت دی ۔
عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَخِيهِ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 39 - Al-Maghazi Book › 25- The Battle of Badr al-Kubra, and what it was, and its command. · Hadith 37833
