مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29710
29710- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو الْهُذَلِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، عَن مُعَاذٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَعَثَهُ قَالَ : كَيْفَ تَقْضِي ، قَالَ : أَقْضِي بِكِتَابِ اللهِ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ يَكُنْ في كِتَابِ الله ؟ قَالَ : أَقْضِي بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : فَإِنْ لَمْ تَكُنْ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قَالَ : أَجْتَهِدُ بِرَأْيِي ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم.
حضرت معاز رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے انہیں قاضی بنا کر بھیجا تو فرمانے لگے تم کیسے فیصلہ کرو گے؟ حضرت معازرضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ کے ذریعہ، نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے کہا: اگر کوئی بات کتاب اللہ میں نہ ہوئی ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا، رسول اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ بات رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کی سنت میں نہ ہوئی؟ حضرت معازرضی اللہ عنہ نے کہا میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ، حضرت معاورضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا: کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے قاصد ( پیامبر ) کوحق سے موافقت کی توفیق عطا فرمائی۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29710
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29711
حضرت بنت حمزہ رضی اللہ عنہ جو کہ ابن شداد رضی اللہ عنہ کی ماں شریک بہن ہیں فرماتی ہیں کہ میرا ایک آزاد کردہ غلام فوت ہوگیا اور اپنی ایک بیٹی چھوڑی، پس رسول الله صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس کا مال میرے اور اس کی بیٹی کے درمیان تقسیم فرمادیا، آدھا حصہ مجھے دیا اور آدھا حصہ اس کی بیٹی کو دیا ۔
مُحَمَّدٌ وَهِيَ أُخْتُ ابْنِ شَدَّادٍ لأُِمِّهِ ← ابْنَةِ حَمْزَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← الْحَكَمِ ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← زَائِدَ?َ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29711
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29712
29712- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَن سِمَاكٍ ، عَن عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قضَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے مدفون خزانہ میں خمس کا فیصلہ فرمایا ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29712
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29713
29713- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قضَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِالْعَقْلِ عَلَى الْعَصَبَةِ ، وَالدِّيَةُ مِيرَاثٌ.
حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے دیت کابو جھ عصبہ رشتہ داروں پر ڈالا ،اور دیت کو مقتول کی وراثت شمار فرمایا ۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29713
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29714
29714- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : قضَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ : الأَرْضِ ، وَالدَّارِ ، وَالْجَارِيَةِ ، وَالدَّابَّةِ ، فَقَالَ عَطَاءٌ : إِنَّمَا الشُّفْعَةُ فِي الأَرْضِ وَالدَّارِ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : تَسْمَعَني لاَ أُمَّ لَكَ أَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، وَتَقُولُ هَذَا ؟!!.
حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ و علیہ وسلم نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے زمین ہو یا ، گھر ہو، باندی ہو، جانور ہو، تو عطاء رحمتہ اللہ علیہ کہنے لگے : شفعہ تو صرف زمین اور گھر میں ہوتا ہے۔ حضرت ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تیری ماں مرے،تو سنتاہی نہیں ہے میں کہہ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا ہے اور تو یہ بات کر رہا ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29714
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29715
29715- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَن سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَقَالَ : الْقَسَامَةُ حَقٌّ قَضَى بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَمَا الأَنْصَارُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَإِذَا هُمْ بِصَاحِبِهِمْ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ ، فَرَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا : قَتَلَتْنَا يَهُود ، وَسَمُّوا رَجُلاً مِنْهُمْ ، وَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ بَيِّنَةٌ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : شَاهِدَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ حَتَّى أَدْفَعَهُ إِلَيْكُمْ بِرُمَّتِهِ ، فَلَمْ تَكُنْ لَهُمْ بَيِّنَةٌ فَقَالَ : اسْتَحَقُّوا بخمسين قَسَامَةً أَدْفَعُهُ إِلَيْكُمْ بِرُمَّتِهِ ، فقَالُوا : إِنَّا نَكْرَهُ أَنْ نَحْلِفَ عَلَى غَيْبٍ ، فَأَرَادَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْخُذَ قَسَامَةَ الْيَهُودِ بِخَمْسِينَ مِنْهُمْ ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنَّ الْيَهُودَ لاَ يُبَالُونَ الْحَلِفَ ، مَتَى نَقْبَلُ هَذَا مِنْهُمْ يَأْتُونَا عَلَى آخِرِنَا ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عَندِهِ.
حضرت سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیامت کا معاملہ برحق ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ہم انصار رسول الله صلی اللہ و علیہ وسلم کے پاس تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی نکل گیا،اچانک انہوں نے اپنے ساتھی کو دیکھا کہ وہ خون میں لت پت پڑا تڑپ رہا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے کہ یہود نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا اور انہوں نے یہود کے ایک آدمی کا نام لیا، اور ان لوگوں کے پاس گواہی نہیں تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تمہارے علاوہ اگر دو گواہ گواہی دیں تو میں اس کو تمہارے حوالے کر دوں؟ پس ان کے پاس گواہی نہیں تھی تو رسول الله صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ پچاس قسمیں اٹھالو میں اس کو تمہارے حوالے کر دوں گا ؟ تو انصار کہنے لگے : ہم ناپسند کرتے ہیں کہ ان دیکھی بات قسم اٹھائیں نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے پچاس یہودیوں سے قسمیں لینا چاہیں تو انصار کہنے لگے: اے اللہ کے رسولصلی اللہ و علیہ وسلم ! بے شک یہودقسم کی پروا نہیں کرتے ہم کس طرح ان کی قسمیں قبول کر لیں تو پھر ہمارےدوسرے لوگوں کو مار دیا کریں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس مقتول کی اپنے پاس سے دیت عطاء فرمائی۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29715
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29716
29716- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَن دَاوُد ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقْضِي بِالْقَضَاءَ ، ثُمَّ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ بِغَيْرِ الَّذِي قَضَى بِهِ فَلا يَرُدُّهُ ، وَيَسْتَأْنِفُ.
حضرت شعبی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کوئی فیصلہ فرماتے تھے پھر قرآن اس فیصلہ کے برعکس نازل ہوتا تھا جو فیصلہ آپ نے کیا ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ و علیہ وسلم اس کو لوٹا تے نہیں تھے اور از سر نو فیصلہ فرماتے تھے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29716
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29717
29717- حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ النَّجْرَانِيِّ قَالَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عمَرَ : أُسْلِمُ فِي نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ يُطْلِعَ ، قَالَ : لاَ ، قُلْتُ : لِمَ ؟ قَالَ : إِنَّ رَجُلاً أَسْلَمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي حَدِيقَةِ نَخْلٍ قَبْلَ أَنْ تُطْلِعَ ، فَلَمْ تُطْلِعْ شَيْئًا ذَلِكَ الْعَامَ ، فَقَالَ الْمُشْتَرِي : هُوَ لِي حَتَّى تُطْلِعَ ، وَقَالَ الْبَائِعُ : إِنَّمَا بِعْتُك النَّخْلَ هَذِهِ السَّنَةَ ، فَاخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم لِلْبَائِعِ : أَجَدَّ مِنْ نَخْلِكَ شَيْئًا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : فَبِمَ تَسْتَحِلُّ مَالَهُ ؟ ارْدُدْ عَلَيْهِ مَا أَخَذْت مِنْهُ ، وَلا تُسْلِمُوا فِي نَخْلٍ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ.
حضرت النجرانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی جاسکتی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں کی جاسکتی۔ میں نے پوچھا: کیوں نہیں ہوسکتی؟ حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی تھی، تو اس سال کوئی شگوفہ نہیں نکلاتو مشتری کہنے لگا: یہ میری ملکیت میں ہوں گے جب تک کہ شگوفے نکل آئیں اور بائع نے کہا: میں نے تو درخت صرف اس سال کے لیے فروخت کیے تھے، تو دونوں آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول الله صلی اللہ و علیہ وسلم نے بائع سے فرمایا: کیا مشتری نے تمہارے درخت میں سے کچھ کاٹا ہے؟ بائع نے کہا: کچھ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کا مال تمہارے لیے کیونکر حلال ہوسکتا ہے؟ جو کچھ تم نے اس سے لیا ہے اس کو واپس کر ۔ اور آئندہ کوئی کھجور کے درخت میں بیع سلم نہ کرے یہاں تک کہ پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہو جائے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29717
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29718
29718- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَجُلٍ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَنَزَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَانْتَزَعَتْ ثَنِيَّتَهُ ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : إِنَّهُ لَمْ يَدَعْك تَأْكُلُ يَدَهُ ، فَلَمْ يَقْضِ لَهُ مِنَ الدِّيَةِ شَيْئًا.
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے ایسے آدمی کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس نے کسی آومی کا ہاتھ دانتوں سے کاٹا تو اس آدمی نے اپناہاتھ اس کے منہ سے کھینچاتو اس کے سامنے والے بچے کے دانت ٹوٹ گئے۔ پس وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم کے پاس چلا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس نے تجھے نہ چھوڑا تا کہ تو اس کا ہاتھ کھا جاتا! آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس کے حق میں کچھ بھی دیت کا فیصلہ نہیں فرمایا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29718
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29719
29719- حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ , حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْمَرْأَةِ تُقْتَلُ : يَرِثُهَا وَلَدُهَا وَالْعَقْلُ عَلَى عَصَبَتِهَا.
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے ایسی عورت کے بارے میں جس کو قتل کر دیا گیا ہو یوں فیصلہ فرمایا اس کا بیٹا اس کا وارث بنے گا اور دیت کو بوجھ عصبی رشتہ داروں پر ہو گا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29719
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29720
29720- حَدَّثَنَا شَبَابَةُ , حدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ : قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : لاَ يَرِثُ قَاتِلُ مَنْ قَتَلَ وَلِيَّهُ شَيْئًا مِنَ الدِّيَة عَمْدًا ، أَوْ خَطَأً.
حضرت سعید بن المسیب حمتہ اللہ علیہ فراماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فیصلہ فرما یا ہے کہ وہ قاتل جس نے اپنے والی کو قتل کر دیا ہو قتل عمد یا قتل خطاء کی صورت میں تو وہ دیت میں سے کچھ حصہ کا بھی وارث نہیں بنے گا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29720
مصنف ابن أبي شيبة · 22- كِتاب أقضِيةِ رسولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ‹ 184- فِي السَّكْرَانِ يَقْتُلُ. · حديث 29721
29721- حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الْقَسَامَةِ أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.
امام زہری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم نے حلف کے بارے میں یوں فیصلہ فرمایا ہے کہ حلف مدعی علیہ کے ذمہ ہے ۔
الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← شَبَابَةُ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 22- The book of Quddiyah, the Messenger of God, may God bless him and grant him peace › 184- When he is drunk, he is killed. · Hadith 29721