مصنف ابن أبي شيبة · 38- كِتابُ الرّدِّ عَلَى أَبِي حَنِيفَة ‹ 102- وَقْتُ الْعِشَاءِ. · حديث 37587
37587- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ؛ أَنَّ سَائِلاً أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ، فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا ، ثُمَّ أَمَرَ بِلاَلاً فَأَقَامَ الْعِشَاءَ الآخِرَةَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ ، ثُمَّ صَلَّى مِنَ الْغَدِ الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوَقْتِ ؟ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ وَقْتٌ.
ابوبکر بن ابوموسیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک سائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے نمازوں کے اوقات کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٍنے اس کو کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے نماز عشاء کے لئے غروب شفق کے وقت امامت کہی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے روز عشاء کی نماز تہائی رات کو ادا فرمائی ۔ پھر فرمایا اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ان دو( مقررہ) اوقات کے درمیان ( عشاء کا) وقت ہے۔
أَبِيهِ ← بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 38- Book of Response to Abu Hanifa › 102. The time for dinner. · Hadith 37587
