مصنف ابن أبي شيبة · 37- كتاب الأَوَائِلِ ‹ 1- بَابُ أَوَّلِ مَا فُعِلَ وَمَنْ فَعَلَهُ. · حديث 36955
36955- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ ، قَالَ : بَعَثَ الْعَلاَءُ بْنُ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِثَمَانِ مِئَةِ أَلْفٍ مِنْ خَرَاجِ الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانَ أَوَّلُ خَرَاجٍ قَدِمَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُثِرَ عَلَى حَصِيرٍ فِي الْمَسْجِد ، وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْمَالِ فَمَثُلَ عَلَيْهِ قَائِمًا فَلَمْ يُعْطِ سَاكِتًا وَلَمْ يَمْنَعْ سَائِلا ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ فَيَقُولُ : أَعْطِنِي ، فَيَقُولُ : خُذْ قَبْضَةً ، ثُمَّ يَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : أَعْطِنِي ، فَيَقُولُ : خُذْ قَبْضَتَيْنِ ، وَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ : أَعْطِنِي ، فَيَقُولُ : خُذْ ثَلاَثَ قَبَضَاتٍ ، فَجَاءَ الْعَبَّاسُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْطِنِي مِنْ هَذَا الْمَالِ ، فَإِنِّي قد أَعْطَيْت فِدَايَ وَفِدَاءَ عَقِيلٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَلَمْ يَكُنْ لِعَقِيلٍ مَالٌ ، قَالَ : فَأَخَذَ يَبْسُطُ خَمِيصَةً كَانَتْ عَلَيْهِ ، وَجَعَلَ يَحْثِي مِنَ الْمَالِ ، فَحَثَا فِيهَا ، ثُمَّ قَامَ بِهِ فَلَمْ يُطِقْ حَمْلَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، احْمِلْ عَلَيَّ ، فَنَظَرَ إلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَتَبَسَّمَ حَتَّى بَدَا ضَاحِكُهُ ، وَقَالَ : أَنْقِصْ مِنَ الْمَالِ وَقُمْ بِقَدْرِ مَا تُطِيقُ ، فَلَمَّا وَلَّى الْعَبَّاسُ ، قَالَ : أَمَّا إحْدَى اللَّتَيْنِ وَعَدَنَا اللَّهُ فَقَدْ أَنْجَزَ لَنَا إحْدَاهُمَا ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الأُخْرَى ، قوله تعالى : {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِمَنْ فِي أَيْدِيكُمْ مِنَ الأَسْرَى إنْ يَعْلَمَ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمْ خَيْرًا} إِلَى آخِرِ الآيَةِ ، فَقَدْ أَنْجَزَهَا اللَّهُ لَنَا وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ الأُخْرَى.
حضرت حمید بن ہلال کہتے ہیں کہ حضرت علاء بن حضری نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بحرین کے خراج میں سے آٹھ لا کھ در ہم بھیجے۔ یہ پہلا خراج تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے حکم دیا اور اس مال کومسجد میں ایک چٹائی بچھا کر اس پر ڈال دیا گیا۔ مؤذن نے اذان دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ۔ پھر آپ اس مال کے پاس آئےاوراس کے پاس کھڑے ہوگئے ، آپ نے کسی خاموش کو مال نہ دیا اور کسی مانگنے والے کو محروم نہ فرمایا۔ ایک آدمی آ تا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ ایک مٹھی لے لو ۔ پھر ایک آدمی آتا اور وہ کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ دومٹھیاں لے لو۔ پھرایک آدمی آ تا اور کہتا کہ مجھے عطا کیجئے آپ اس سے فرماتے کہ تم تین مٹھیاں لے لو۔اتنے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ آئےاور انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھے بھی اس مال میں سے عطا کیجئے ۔ میں نے غزوہ بدر میں اپنا اورعقیل کا فدیہ دیا تھا۔ جبکہ عقیل کے پاس مال نہیں تھا۔ پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ اپنے موجود چادر میں وہ مال بھرنے لگے ۔ چادر بھر نے کے بعد جب وہ اٹھانے لگے تو ان سے اٹھایا نہ گیا۔انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھ پر اسے لد وادیجئے ۔ آپ ان کی طرف دیکھ کرا تنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے ۔ آپ نے ان سے فرمایا کہ مال کم کرلواوراتنا اٹھاؤ جتنا اٹھا سکتے ہو۔ جب حضرت عباس رضی اللہ عنہ چلے گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جن دو چیزوں کا وعد ہ فر مایا تھا ان میں سے ایک کو پورا کر دیا۔ اور ہم دوسری کا انتظار کر رہے ہیں۔ پھر قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی ’’ يا أيها النبي قل لمن في أيديكم من الأسرى إن يعلم الله في قلوبكم خيرا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کر دیا اور ہم دوسری بات کے پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو أُسَامَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 37- Al-Awa’il Book › 1- Chapter one of what was done and who did it. · Hadith 36955
