مصنف ابن أبي شيبة · 21- كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ 123- مَنْ قَالَ إِذَا فَجَرَتْ وَهِيَ حَامِلٌ ، انْتُظِرَ بِهَا حَتَّى تَضَعَ ، ثُمَّ تُرْجَمُ. · حديث 29411
29411- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : حدَّثَنِي ذُهلُ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَرْجُمَ الْمَرْأَةَ الَّتِي فَجَرَتْ وَهِيَ حَامِلٌ ، فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ : إِذًا تَظْلِمُهَا ، أَرَأَيْتَ الَّذِي فِي بَطْنِهَا ، مَا ذَنْبُهُ ؟ عَلاَمَ تَقْتُلْ نَفْسَيْنِ بِنَفْسٍ وَاحِدَةٍ ؟ فَتَرَكَهَا حَتَّى وَضَعَتْ حَمْلَهَا ، ثُمَّ رَجَمَهَا.
حضرت ذھل بن کعب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا جس نے بدکاری تھی اور وہ حاملہ تھی حضرت معازرضی اللہ عنہ نے آپ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تب تو آپ رضی اللہ عنہ اس پر ظلم کروگے آپ رضی اللہ عنہ کی کیا رائے ہے اس جان کے بارے میں جو اس کے پیٹ میں موجود ہے۔ اس کا کیا گناہ ہے؟ کس وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک جان کے بدلے دو جانوں کوقتل کرو گے؟ سوآپ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے اپناحمل وضع کیا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سنگسار کیا۔
أَرَادَ عُمَرُ أَنْ يَرْجُمَ الْمَرْأَةَ الَّتِي فَجَرَتْ وَهِيَ حَامِلٌ ← ذُهلُ بْنُ كَعْبٍ ← سِمَاكٍ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 21- Borders Book › 123 - Whoever says, when she is pregnant and is pregnant, she waits for her until she gives birth, then she is stoned. · Hadith 29411
