مصنف ابن أبي شيبة · 21- كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ 119- فِي الزَّانِي ، كَمْ مَرَّةً يُرَدُّ ، وَمَا يُصْنَعُ بِهِ بَعْدَ إِقْرَارِهِ ؟. · حديث 29363
29363- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ زَنَيْتَ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّى أَتَاهُ أَرْبَعَ مِرَارٍ ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ يَشْتَدُّ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ بِيَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ ، فَضَرَبَهُ فَصَرَعَهُ ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ ، قَالَ : فَهَلاَّ تَرَكْتُمُوهُ.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: بے شک میں نے زنا کیا ہے!سوآپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ نبی کر یم صلی اللہ و علیہ وسلمکے پاس چوتھی مرتب آئے تو آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو ان کو سنگسار کیا گیا جب انہیں پتھروں کی تکلیف پہنچی تو وہ تکلیف سے بھاگنے لگے اتنے میں اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کا جبڑا تھا پس اس نے اسے مارا اور اسے نیچے گرادیانبی کریم صلی اللہ و علیہ وسلمکے سامنے ان کے بھاگنے کا معاملہ ذکر کیا گیا جب انہیں پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا؟
جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 21- Borders Book › 119- In the adulterer, how often is he called back, and what is to be done with him after he passes it? · Hadith 29363
