مصنف ابن أبي شيبة · 21- كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ 90- مَا جَاءَ فِي السَّكْرَانِ مَتَى يُضْرَبُ ، إِذَا صَحَا ، أَوْ فِي حَالِ سُكْرِهِ ؟. · حديث 29219
29219- حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوصِ ، عَنْ أَبِي الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَن أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَاعِدًا ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِميَن بِابْنِ أَخٍ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَانَ ، ابْنُ أَخِي وَجَدْتُهُ سَكْرَانًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : تَرْتِرُوه ، وَمَزْمِزُوه ، وَاستُنْكِهُوه ، فَتُرْتِر ،وَمُزْمِز ، وَاستُنْكِه ، فَوُجِدَ سَكْرَانًا ، فَدُفِعَ إِلَى السِّجْنِ ، فَلَمَا كَانَ الْغَدُ ، جِئْتُ وَجِيءَ بِهِ.
حضرت ابو ماجد حنفی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی اپنےبھتیجے کو لایا اور آپ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا: اے ابو عبد الرحمن ! میرے بھائی کا بیٹا ہے میں نے اسے نشہ کی حالت میں پایا ہے اس پر حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اس کو اچھی طرح ہلاؤ ، اس کو دھکیلو اور اس کے منہ کی بو سونگو پس اسے سنگا یا گیا تو آ پ رضی اللہ عنہ نے اسے نشہ کی حالت میں پایا ، اسے جیل بھیج دیا گیا پس جب اگلا دن آیا تو میں آیا اور اسے بھی لایا گیا۔
أبي ماجد الحنفي، ← أَبِي الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 21- Borders Book › 90- When did drunkenness strike, when it is correct, or in case of intoxication? · Hadith 29219
