مصنف ابن أبي شيبة · 21- كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ 52- النَّبِيذُ ، مَنْ رَأَى فِيهِ حَدًّا. · حديث 28991
28991- حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَن حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَجُلاً سَايَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي سَفَرٍ وَكَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا أَفْطَرَ أَهْوَى إِلَى قِرْبَةٍ لِعُمَرَ مُعَلَّقَةٍ فِيهَا نَبِيذٌ قَدْ خَضْخَضَهَا الْبَعِيرُ ، فَشَرِبَ مِنْهَا فَسَكِرَ ، فَضَرَبَهُ عُمَرُ الْحَدَّ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّمَا شَرِبْت مِنْ قِرْبَتِكَ ؟فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّمَا جَلَدْنَاك لِسُكْرِك.
حضرت حسان بن مخارق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ سفر میں گیا درانحالیکہ وہ روزہ دار تھا جب اس نےروزہ افطار کر لیا تو اس نے اپنا ہاتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چمڑے کے مشکیزے کی طرف بڑھایا جو لٹکا ہوا تھا اور اس میں نبیذ موجود تھی جس کو اونٹ نے خوب ہلا دیاتھا۔ پس اس نے شخص اسے پی لیا اور نشہ میں مدہوش ہو گیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پر حد لگائی اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: بے شک میں نے تو تمہارے مشکیزے سے پی تھی؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے فرمایا: بیشک ہم نے تمہارے نشہ میں مدہوش ہونے کی وجہ سے تمہیں کوڑے مارے ہیں۔
حسان بن مخارق ← الشَّيْبَانِيِّ ← ابْنُ مُسْهِرٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 21- Borders Book › 52 - The wine, whoever has an opinion on it. · Hadith 28991
