حضرت جعفر رحمۃ اللہ علیہ کے والد فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر زیادتی نہیں کرتے کہ وہ چور کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹ دیتے پس جب اس کے بعد اسے دوبارہ لایا جاتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے : بے شک مجھے شرم آتی ہے کہ یہ اپنی نماز کے لیے بھی پاکی حاصل نہ کر سکے لیکن تم مسلمانوں کو اس کے شر سے دور کر دو اور اس پر بیت المال سے خرچ کرو۔
أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 21- Borders Book › 29- In the thief, he is robbed, his hand and leg are cut off, then he returns. · Hadith 28847
مصنف ابن أبي شيبة · 21- كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ 29- فِي السَّارِقِ يَسْرِقُ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَرِجْلُهُ ، ثُمَّ يَعُودُ. · حديث 28848
حضرت مکحول رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: جب چور چوری کرے تو تم اس کاایک ہاتھ کاٹ دو پھر اگر وہ دوبارہ چوری کرے تو تم اس کی ایک ٹانگ کاٹ دو اور تم اس کا دوسرا ہاتھ مت کاٹو اس کو چھوڑ دو تاکہ وہ اس کے ذریعے کھانا کھائے اور اپنا پاخانہ صاف کرے لیکن تم مسلمانوں سے اسے قید کر دو۔
حضرت منصور رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم کو جانور کی طرح مت چھوڑو۔ اس کا ایک ہاتھ چھوڑ دو تاکہ اس کے ذریعہ کھائے۔
حضرت قاسم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہاتھ اور پاؤںکاٹنے کے بعد دوسری ٹانگ کاٹنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے ارشاد فرمایا: سنت ہاتھ کاٹنا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا اس کا ایک ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کے بعد ۔
حضرت عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ چور کا ایک ہاتھ اور پاؤں سے زیادہ کوئی عضو کاٹا جائے گا؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: نہیں لیکن اسے قید کر دیا جائے گا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 21- Borders Book › 29- In the thief, he is robbed, his hand and leg are cut off, then he returns. · Hadith 28853
مصنف ابن أبي شيبة · 21- كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ 29- فِي السَّارِقِ يَسْرِقُ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَرِجْلُهُ ، ثُمَّ يَعُودُ. · حديث 28854
28854- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ ، يَسْأَلُهُ : هَلْ قَطَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الرِّجْلَ بَعْدَ الْيَدِ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَدْ قَطَعَ الرِّجْلَ بَعْدَ الْيَدِ.
حضرت یحییٰ بن ابو کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر سوال کیا ، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کےبعد پاؤں کاٹا تھا ؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب لکھا ! یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ کے بعد پاؤں کاٹا تھا۔
حضرت حارث بن عبداللہ بن ابو ربیعہ اور حضرت عبدالرحمٰن بن سابط یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک غلام لایا گیا تحقیق اس نے چوری کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر دوبارہ چوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا پاؤں کاٹ دیا پھر دوبارہ اسے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا پھر اسے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا پاؤں کاٹ دیا۔
حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت عبداللہ بن مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا پھر دوبارہ اسے لایا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کا بایاں پاؤں کاٹ دیا۔ پھر اس کو تیسری مرتبہ لایا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: یقیناً مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس یہ ہاتھ کاٹ دوں جس کے ذریعہ وہ کھاتا اور استنجا کرتا ہے ۔ بعض راویوں کی حدیث یوں ہے : آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے مارا اور اسے قید کر دیا۔
حضرت عبداللہ بن مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چور کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جب وہ چوری کرے گا تو میں اس کا ایک ہاتھ کاٹ دوں گا پس اگر وہ دوبارہ چوری کرے گا تو میں اس کاایک پاؤں کاٹ دو ں گا پس اگر وہ دوبارہ چوری کرے گا تو میں اسے جیل میں قید کر دوں گا۔
حضرت عمرو بن دینار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ کر ان سے چور کے متعلق پوچھا؟ تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی مثل جواب لکھا۔