مصنف ابن أبي شيبة · 31- كِتاب السِّير ‹ 30- ما قالوا فِي المرتدِّ كم يستتاب ؟. · حديث 33424
33424- حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ :لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَتْحُ تُسْتَرَ وَتُسْتَرُ مِنْ أَرْضِ الْبَصْرَةِ سَأَلَهُمْ : هَلْ مِنْ مُغَرِّبَةٍ ، قَالُوا : رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَحِقَ بِالْمُشْرِكِينَ فَأَخَذْنَاهُ ، قَالَ : مَا صَنَعْتُمْ بِهِ ، قَالُوا : قَتَلْنَاهُ ، قَالَ : أَفَلاَ أَدْخَلْتُمُوهُ بَيْتًا وَأَغْلَقْتُمْ عَلَيْهِ بَابًا وَأَطْعَمْتُمُوهُ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا ، ثُمَّ اسْتَتَبْتُمُوهُ ثَلاَثًا فَإِنْ تَابَ وَإِلاَّ قَتَلْتُمُوهُ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَمْ أَشْهَدْ وَلَمْ آمُرْ وَلَمْ أَرْضَ إذَا بَلَغَنِي ، أَوَ قَالَ : حِينَ بَلَغَنِي.
حضرت عبدالرحمٰن فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کے پاس تستر کی فتح کی خبر لائی گئی تستریہ بصرہ کا ایک علاقہ ہے آپ نے ان لوگوں سے پوچھا دو ر دراز کی کیا خبر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا: مسلمانوں کا ایک آدمی تھ ا۔ جو مشرکین سے جا ملا۔ہم نے اس کو پکڑ لیا۔ آپ نے پوچھا : کہ تم نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کی ا؟ ان لوگوں نے کہا: ہم نے اس کو قتل کر دیا۔
أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 31- The book › 30- What did they say about the apostate? · Hadith 33424
