مصنف ابن أبي شيبة · 31- كِتاب السِّير ‹ 29- مَا قالوا فِي الرّجلِ يسلِم ، ثمّ يرتدّ ما يصنع بِهِ. · حديث 33400
33400- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عْن طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : جَاءَ وَفْدُ بُزَاخَةَ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ إلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلُونَهُ الصُّلْحَ , فَخَيَّرَهُمْ أَبُو بَكْرٍ بَيْنَ الْحَرْبِ الْمُجْلِيَةِ ، وَالسَّلْمِ الْمُخْزِيَةِ ، قَالَ : فَقَالُوا : هَذَا الْحَرْبُ الْمُجْلِيَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا , فَمَا السَّلْمُ الْمُخْزِيَةُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : تُؤَدُّونَ الْحَلْقَةَ وَالْكُرَاعَ , وَتَتْرُكُونَ أَقْوَامًا يَتْبِعُونَ أَذْنَابَ الإِبِلِ حَتَّى يُرِي اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَكُمْ بِهِ , وَتَدُونَ قَتْلاَنَا ، وَلاَ نَدِي قَتْلاَكُمْ , وَقَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلاَكُمْ فِي النَّارِ , وَتَرُدُّونَ مَا أَصَبْتُمْ مِنَّا وَنَغْنَمُ مَا أَصَبْنَا مِنْكُمْ ، فَقَالَ عُمَرُ ، فَقَالَ : قَدْ رَأَيْت رَأْيًا , وَسَنُشِيرُ عَلَيْك , أَمَّا أَنْ يُؤَدُّوا الْحَلْقَةَ وَالْكُرَاعَ فَنِعْمَ مَا رَأَيْت , وَأَمَّا أَنْ يَتْرُكُوا أَقْوَامًا يَتَّبِعُونَ أَذْنَابَ الإِبِلِ حَتَّى يَرَى اللَّهُ خَلِيفَةَ نَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم وَالْمُسْلِمِينَ أَمْرًا يَعْذِرُونَهُمْ بِهِ فَنِعْمَ مَا رَأَيْت وَأَمَّا أَنْ نَغْنَمَ مَا أَصَبْنَا مِنْهُمْ وَيَرُدُّونَ مَا أَصَابُوا مِنَّا فَنِعْمَ مَا رَأَيْت , وَأَمَّا أَنَّ قَتْلاَهُمْ فِي النَّارِ وَقَتْلاَنَا فِي الْجَنَّةِ فَنِعْمَ مَا رَأَيْت , وَأَمَّا أَنْ لاَ نَدِيَ قَتْلاَهُمْ فَنِعْمَ مَا رَأَيْت , وَأَمَّا أَنْ يَدُوا قَتْلاَنَا فَلا , قَتْلاَنَا قُتِلُوا عَنْ أَمْرِ اللهِ فَلاَ دِيَاتٍ لَهُمْ , فَتَتَابَعَ النَّاسُ عَلَى ذَلِكَ.
33400 - حضرت طارق بن شہاب فرماتے ہیں کہ قبیلہ اسد اور غطفان کے بڑے لوگوں کا وفد حضرت ابو بکر کے پاس سے آیا اور ان لوگوں نے آپ سے صلح کا سوال کیا۔ تو حضرت ابو بکر نے ان سے رسوا کر دینے والی صلح یا سخت جنگ کے درمیان اختیار دیا ۔ تو وہ لوگ کہنے لگے۔ اس سخت اور صفایا کر دینے والی جنگ کو تو ہم نے پہچان لیا ۔ یہ رسوا کر دینے والی صلح کیا ہے ؟ حضرت ابو بکر نے فرمایا: تم تمام اسلحہ اور گھوڑے دو گے اور تم لوگوں کو چھوڑ دو گے کہ وہ اونٹ کی دم کی پیروی کریں ، یعنی جس کی مرضی پیروی کریں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کے خلیفہ اور مسلمانوں کو ایسی بات دکھا دیں جس کی وجہ سے وہ تم لوگوں کو معذور سمجھیں اور تم ہمارے مقتولین جہنم میں ہیں ۔ اور جو چیز تم نے ہماری لی ہے وہ تم واپس لوٹا ؤ گے او رہم نے جو تمہارا مال لیا ہے وہ مال غنیمت ہو گا ۔
طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 31- The book › 29- What they say in the man is to be betrayed, then what is done with it will be turned back. · Hadith 33400
