32609- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَ : حدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رِيَاحَ بْنَ الْحَارِثِ يَذْكُرُ ؛ أَنَّهُ شَهِدَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ , وَكَانَ بِالْكُوفَةِ فِي الْمَسْجِدِ الأَكْبَرِ , وَكَانُوا أَجْمَعَ مَا كَانُوا يَمِينًا وَشِمَالاً , حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ , يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عمرو بن نُفَيْلٍ , فَرَحَّبَ بِهِ الْمُغِيرَةُ , وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ , فَبَيْنَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ , إذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ , يُدْعَى قَيْسَ بْنَ عَلْقَمَةَ , فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةُ فَسَبَّ وَسَبَّ , فَقَالَ لَهُ الْمَدَنِيُّ : يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ , مَنْ يَسُبُّ هَذَا السَّابُّ ؟ قَالَ : يَسُبُّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , قَالَ لَهُ مَرَّتَيْنِ : يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ , يَا مُغِيرَ بْنَ شُعْبَ , أَلاَ أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُسَبُّونَ عِنْدَكَ لاَ تُنْكِرُ , وَلاَ تُغَيِّرُ , فَإِنِّي أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ , وَبِمَا وَعَى قَلْبِي , فَإِنِّي لَنْ أَرْوِيَ عَنْهُ مِنْ بَعْدِهِ كَذِبًا , فَيَسْأَلُنِي عَنْهُ إذَا لَقِيتُهُ , أَنَّهُ قَالَ : أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ , وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ , وَعُثْمَان فِي الْجَنَّةِ , وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ , وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ , وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ , وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ , وَآخَرُ تَاسِعٌ , لَوْ أَشَاءُ أَنْ أُسَمِّيَهُ لَسَمَّيْتُهُ , قَالَ : فَخَرَجَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ بِاللهِ : يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم , مَنِ التَّاسِعُ ؟ قَالَ : نَشَدْتُمُونِي بِاللهِ , وَاللَّهُ عَظِيمٌ , أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ , وَنَبِيُّ اللهِ صلى الله عليه وسلم الْعَاشِرُ , ثُمَّ أَتْبَعَهَا , وَاللهِ لَمَشْهَدٌ شَهِدَهُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَوْمًا وَاحِدًا فِي سَبِيلِ اللهِ , مَعَ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم , اغْبَرَّ فيه وَجْهِهِ أَفْضَلُ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ , وَلَوْ عُمِّرَ عُمُرَ نُوحٍ.
32609 - حضرت صدقہ بن مثنی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حضڑت ریاح بن حارث کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس حاضر تھا ۔ اس حآل میں کہ آپ کوفہ کی ایک بڑی مسجد میں تھے ۔ اور سب لوگ آپ کے دائیں بائیں جمع تھے ۔ یہاں تک کہ اہل مدینہ میں سے ایک شخص تشریف لائے جن کو سعید بن زید عمرو بن نفیل کے نام سے پکارا جارہا تھا۔ پس حضرت مغیرہ بن شعبہ نے ان کو خوچ آمدیدم کہا۔ اور انہوں نے ان کو تخت پر اپنی ٹانگوں کے پاس بٹھا لیا۔ پس وہ اسی حالت میں تھے کہ اہل کوفہ میں سے ایک شخص جس کو قیس بن علقمہ کے نام سے پکارا کا رہا تھا داخل ہوا۔ تو حضرت مغیرہ نے اس کا استقبال کیا پس انہوں نے بھی سب وشتم کیااور اس شخص نے بھی سب وشتم کیا۔ تو اس مدنی شخص نے ان سے کہا: اے مغیرہ بن شعبہ ! یہ گالی دینے والا کس کو گالی دے رہا تھا؟ مغیرہ نے فرمایا: علی کو گالیا دے رہا تھا اس مدنی نے ان کو دو مرتبہ کہا: اے مغیرہ بن شعبہ ! اے مغیرہ بن شعبہ خبر دار کہ میں سن رہا ہوں کہ تیرے پاس رسول اللہﷺ کے اصحاب کو برا بھلا کہ اجا رہا ہے نہ تو تعجب کر رہا ہے اور نہ ہی تو غیرت کھا رہا ہے ! میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہﷺ پر اس بات کی کہ میرے دونوں کانوں نے سنا : اور میرے دل میں اس کو محفوظ کیا ہر گز میں روایت نہیں کرتا ان کے چلے جانے کے بعد جھوٹ کے ڈر سے ۔
جَدِّي رِيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ يَذْكُرُ ← صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 15- What was mentioned in Abu Bakr Al-Siddiq, may God be pleased with him? · Hadith 32609