مصنف ابن أبي شيبة · 30-كِتاب الْفَضَائِلِ ‹ 1- مَا أَعْطَى اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم. · حديث 32412
32412- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا عُثْمَان بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَن بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : لَقَدْ رَأَيْت مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي , وَلاَ يَرَاهَا أَحَدٌ مِنْ بَعْدِي : لَقَدْ خَرَجْت مَعَهُ فِي سَفَرٍ حَتَّى إذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ , ابْنِي هَذَا أَصَابَهُ بَلاَءٌ, وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلاَءٌ , يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ لاَ أَدْرِي كَمْ مَرَّةً ، قَالَ : نَاوِلِينِيهِ , فَرَفَعَتْهُ إلَيْهِ ، فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ، ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلاَثًا بِسْمِ اللهِ أَنَا عَبْدُ اللهِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللهِ ، قَالَ : ثُمَّ نَاوَلَهَا إيَّاهُ ، ثُمَّ قَالَ : الْقَيْنَا بِهِ فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ ، فَأَخْبِرِينَا بِمَا فَعَلَ ، قَالَ : فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا ، فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلاَثٌ ، فَقَالَ : مَا فَعَلَ صَبِيُّك ؟ قَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَك بِالْحَقِ مَا أَحْسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ فَاجْتَزِر هَذِهِ الْغَنَمَ ، قَالَ : انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ. قَالَ : وَخَرَجْت مَعَهُ ذَاتَ يَوْمٍ إلَى الْجَبَّانَةِ ، حَتَّى إذَا بَرَزْنَا قَالَ : اُنْظُرْ وَيْحَك , هَلْ تَرَى مِنْ شَيْءٍ يُوَارِينِي ؟ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ , مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيك إلاَّ شَجَرَةً مَا أَرَاهَا تُوَارِيك ، قَالَ : مَا قُرْبُهَا شَيْءٌ ؟ قُلْتُ : شَجَرَةٌ خَلْفَهَا ، وَهِيَ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا ، قَالَ : اذْهَبْ إلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا إنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللهِ تَعَالَى ، قَالَ : فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : اذْهَبْ إلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا : إنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إلَى مَكَانِهَا. قَالَ : وَكُنْت جَالِسًا مَعَهُ ذَاتَ يَوْمٍ إذْ جَاءَ جَمَلٌ يَخِبُّ حَتَّى ضَرَبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ ، فَقَالَ : اُنْظُرْ وَيْحَك لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ ؟ إنَّ لَهُ لَشَأْنًا , فَخَرَجْت أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَدَعَوْتُهُ إلَيْهِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا ؟ قَالَ : وَمَا شَأْنُهُ ؟ قَالَ : لاَ أَدْرِي وَاللهِ مَا شَأْنُهُ ، عَمِلْنَا عَلَيْهِ وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ حَتَّى عَجَزَ عَنِ السِّقَايَةِ , فَائْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ ، قَالَ : فَلاَ تَفْعَلْ , هَبْهُ لِي ، أَوْ بِعْنِيهِ ، قَالَ : هُوَ لَك يَا رَسُولَ اللهِ , فَوَسَمَهُ سِمَةِ الصَّدَقَةِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ.
32412 - حضر ت یعلیٰ بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی تین نشانیاں دیکھی ہیں جو نہ مجھ سے پہلے کسی نے دیکھیں نہ میرے بعد کوئی دیھے گا میں آپ کےساتھ ایکسفر میں نکلا یہاں تک کہ ہم راستے میں ایک عورت کے پاس سے گزرے جس کے ساتھ ایک بچہ تھا اس نے کہا یا رسول اللہ! میرے اس بیٹے کو ایک مصیبت آئی ہے آپ نے فرمای امجھے دو اس نے بچہ آپ کو دیا آپ نے اس کو اپنے اور کجاد ے کے درمیانی حسے کے درمیان رکھ لیا پھر آپ نے اس کا منہ کھولا اور اس میں تین مرےبہ کہہ کر پھونکا پھر وہ بچہ ا س کو دے دیا اور فرمایا کہ واپسی میں ہمیں سی جگہ ملنا اور بتانا کہکیا ہوا کہتے ہین کہ ہم گئے اور پھر لوڑے اور اس جگہ دیکھا اس کے پاس بہت سی بکریاں تھیں آپ نے فرمایا تمہارے بچے کا کیا ہوا؟َ اس نے کہا س ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم کو اس کے بارے میں ابھی تک کچھ محسوس نہیں ہوا آپ نے یہ بکریاں لے لیں آپ نے فرمایا اےترو اور ایک بکری لے لو اور باقی واپس کر دو۔ کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ میدان کی طرف نکلا یہاں تک کہجب ہم دور نکل گئے تو آپ نے فرمای ادیکھو کیا تم کوئی چیز دیکھتے ہو جو مجھے چھپا لے ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مجھے آپکو چھپانے والی کوئی چیز نظر نہیں آرہی وائے ایک درخت کے جو آپ کو چھپا نہین سکتا آپ نے فرمایا اس کے قریب کوئی چیز نہیں ؟ میں نے عرض کیا اس کے پیچھے ایک درخت ہے تجو اتنا ہی ہے یا اس کے قریب ہے آپ نے فرمایا ان دونوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم بحکم خدا اکٹھے ہو جاؤ کہتے ہین کہ وہ دونوں درخت اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ اپنی حاجت کے لئے تشریف لے گئے پھر لوٹ آئے اور فرمایا کہ ان کے پاس جاؤ اور ان سے جہو کہ رسول اللہﷺ تم دونوں کو حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک اپنی جگہ لوٹ جائے۔
يَعْلَی بْنِ مُرَّةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 30- The Book of Virtues › 1- Allah did not give Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him. · Hadith 32412
