مصنف ابن أبي شيبة · 2-الهمزة مع الفاء ‹ 30- يؤذن بليل ، أَيُعِيدُ الأَذَانَ أَمْ لاَ؟. · حديث 2323
2323- حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ الْحَسَنُ إذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُؤَذِّنُونَ بِلَيْلٍ ، قَالَ : عُلُوجٌ فُرَّاغٌ لاَ يُصَلُّونَ إِلاَّ بِإِقَامَةٍ ، لَوْ أَدْرَكَهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ لأَوْجَعَهُمْ ضَرْبًا ، أَوْ لأَوْجَعَ رُؤُوسَهُمْ.
حضرت ابوموسی ٰکہتے ہیں کہ حضرت حسن کے سامنے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جورات میں فجر کی اذان دے دیتے تھے ۔تو آپ نے فرمایا کہ وہ عجم کے کافر اور فارغ لوگ ہیں وہ صرف اقامت کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں علم ہو جا تا تو انہیں مارتے یا ان کے سر پر مارتے ۔
عِنْدَهُ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُؤَذِّنُونَ بِلَيْلٍ ← كَانَ الْحَسَنُ إذَا ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 2- Al-Hamzah with Faa'a › 30- A call to prayer at night. Should the call to prayer be repeated or not? · Hadith 2323
