مصنف ابن أبي شيبة · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ 1- مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ. · حديث 19697
19697- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَش ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ ، قَالَ : السُّيُوفُ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ , فَإِذَا تَقَدَّمَ الرَّجُلُ إلَى الْعَدُوَ قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ : اللَّهُمَّ انْصُرْهُ ، وَإِنْ تَأَخَّرَ ، قَالَتْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، فَأَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِ السَّيْفِ يُغْفَرُ لَهُ بِهَا من كُلُّ ذَنْبٍ , وَيَنْزِلُ عَلَيْهِ حَوْرَاوَانِ تَمْسَحَانِ الْغُبَارَ عَنْ وَجْهِهِ وَتَقُولاَنِ : قَدْ آنَ لَكَ وَيَقُولُ لَهُمَا : وأنتما قَدْ آنَ لَكُمَا.
19697 - حضرت یزید بن شجرہ فرماتے ہیں کہ تلوار جنت کی چابیاں ہیں جب کوئی شخص دشمن کی طرف بڑھتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ اس کی مدد فرما۔ اگر وہ پیچھے بنتا تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے اللہ! اسے معاف فرما۔ تلوار کا وار ٹگنے سے ہونے والے زخم سے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس کے لیے جنت دے دو حوریں اترتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہم تیرے لیے ہیں ۔ وہ ان دونوں سے کہتا ہے کہ میں تمہارے لیے ہوں ۔
يَزِيدَ بْنِ شَجَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 11- Book of jihad › 1- What was mentioned in the virtue of and exhortation of jihad. · Hadith 19697
