مصنف ابن أبي شيبة · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ 1- مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ. · حديث 19673
19673- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي تُجَاهَ الْعَدُوِّ يَقُولُ سَمِعْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : إِنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ : آنْتَ سَمِعْت هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَسَلَّ سَيْفَهُ وَكَسَرَ غِمْدَهُ وَالْتَفَتَ إلَى أَصْحَابِهِ ، وَقَالَ : أَقْرَأُ عَلَيْكُمَ السَّلاَمَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ إلَى الْعَدُوِّ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.
19673 - حضرت ابو بکر بن ابی موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے دشمن کا آمنا سامنا ہونے پر فرمایا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تلواریں جنت کی چا بیاں ہیں ۔ یہ حدیث سن کر ایک پر اگندہ حالت کے حامل شخس نے کہا کہ اے ابو موسیٰ ! کیا یہ بات آپ نے رسول اللہﷺ سے سنی ہے ؟ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا: ہاں میں نے سنی ہے ۔ اس پر اس آدمی نے اپنی تلوار نکالی اور نیام کو توڑ کر اپنے سا تھیوں کو سلام کیا پھر دشمن کی طرف بڑھا اور ان سے لڑتا رہا یہاں تک کہ شہید ہو گیا ۔
نَعَمْ فَسَلَّ سَيْفَهُ وَكَسَرَ غِمْدَهُ وَالْتَفَتَ إلَى أَصْحَابِهِ ← هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ رَجُلٌ رَثُّ الْهَيْئَةِ آنْتَ ← إِنَّ السُّيُوفَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي تُجَاهَ الْعَدُوِّ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 11- Book of jihad › 1- What was mentioned in the virtue of and exhortation of jihad. · Hadith 19673
