مصنف ابن أبي شيبة · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ 1- مَا ذُكِرَ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ وَالْحَثِّ عَلَيْهِ. · حديث 19781
19781- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبِي عَبْدُ اللهِ : أَيْ بُنَيَّ لَوْلاَ نُسَيَّاتٌ أَخْلُفُهُنَّ مِنْ بَعْدِي مِنْ بَنَاتٍ وَأَخَوَاتٍ , لأحْبَبْت أَنْ أُقَدِّمَك أَمَامِي وَلَكِنْ كُنَّ فِي نَظَّارِي الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ جَاءَتْ بِهِمَا عَمَّتِي قَتِيلَيْنِ يَعْنِي أَبَاهُ وَعَمَّهُ قَدْ عَرَضَتْهُمَا عَلَى بَعِيرٍ.
19780- حضرت اسحاق بنو سلمہ کے کچھ آدمیوں سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے زمانے میں چشمے کا پانی احد کے شہدا ء کی قبروں کی طرف آگیا ۔ اس کی وجہ سے حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام اور حضرت عمرو بن جموح کی قبر ظاہر ہو گئی ۔ فیصلہ یہ ہو ا کہ ان حضرات کی قبروں کو کسی دوسری جگہ منقتل کر دیا جائے ۔ جب ہم نے ان حضرات کے مبارک جسموں کو قبروں سے نکالا تو وہ اس طرح تازہ تھے جیسے کل ہی ان کا اتنقال ہوا ہو ۔ ان کے چہرے والے حصوں کو چادر اور پاؤں کو اذخر نامی گھاس سے ڈھانپا گیا تھا ۔
جَابِرٍ ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 11- Book of jihad › 1- What was mentioned in the virtue of and exhortation of jihad. · Hadith 19781
