مصنف ابن أبي شيبة · 19- كِتاب الأدبِ ‹ 106- فِي تشمِيتِ العاطِسِ ، مَنْ قَالَ لاَ يشمّت حتّى يحمد اللّه. · حديث 26496
26496- حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : دَخَلْت عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ فَعَطَسْت فَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا ؟ فَرَجَعْت إلَى أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا ، فَلَمَّا جَاءَهَا ، قَالَتْ : عَطَسَ عِنْدَكَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا ، قَالَ : إنَّ ابْنَك عَطَسَ وَلَمْ يَحْمَدَ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ ، وَعَطَسَتْ هذه وَحَمِدَتِ اللَّهَ فَشَمَّتُّهَا ، وَسَمِعْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ : إذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ ، وَإِذَا لَمْ يَحْمَدَ اللَّهَ فَلاَ تُشَمِّتُوهُ.
حضرت ابو بردہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ آپ رضی اللہ عنہ بنت فضل کے گھر میں تھے ، پس مجھے چھینک آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور بنت فضل کو چھینک آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ میں اپنی والد ہ کے پاس واپس آیا اور میں نے انہیں اس بارےمیں بتایا جب وہ آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئیں تو کہا: بے شک میرے بیٹے کو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس چھینک آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو تو یرحمک اللہ نہیں کہا ، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرے بیٹے کو چھینک آئی اور اس نے الحمد للہ نہیں کہا تو میں نے بھی اسے یرحمک اللہ نہیں کہا، اور اس لڑکی کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ کہا تو میں نے بھی اے یر حمک اللہ کے زریعہ جواب دیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے اور الحمد للہ کہے تو تم اسے یرحمک اللہ کہہ کر دعا دو اور جب وہ الحمدللہ نہ کہے تو تم بھی یرحمک اللہ نہ کہو۔
أَبِي بُرْدَةَ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← قَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيّ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 19- Literature book › 106- In sneezing sneezing, he who does not smell until he praises God. · Hadith 26496
