مصنف ابن أبي شيبة · 19- كِتاب الأدبِ ‹ 240- ما قالوا فِي كراهِيةِ العِرَافةِ. · حديث 27252
27252- حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَن عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ رَجُلُ مِنْ بَنِي سَلُولَ ، أَنَّهُ دَعَاهُ قَوْمُهُ لِيُعَرِّفُوهُ ، وَاخْتَارُوهُ لِذَلِكَ ، فَأَبَى وَامْتَنَعَ ، فَذَهَبَ إلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَشَاوَرَهُ وَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ : لاَ تَعْرِفَنَّ عَلَيْهِمْ فَجَاؤوا بِالْغَدْوَى فَلَمْ يَزَالُوا حَتَّى أَلْزَمُوهَا إيَّاهُ ، فَذَهَبَ إلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَأَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَدْ أُكْرِهَ فَقَالَ : أَوَّلُهَا شُفْعَةٌ وَأَوْسَطُهَا خِيَانَةٌ وَآخِرُهَا عَذَابُ النَّارِ.
حضرت عثمان بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ جو قبیلہ بنو سلول کے آدمی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میری قوم نے مجھے بلایا تاکہ وہ مجھے نگران مقررکریں اور اس عہدے کے لیے منتخب کریں۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے انکار کر دیا اور اس کو چھوڑ دیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے آپ نے ان سے مشورہ کیا اور ان کی رائے مانگی۔ انہوں نے فرمایا: تم ہر گز ان پر نگران مت بننا،وہ لوگ اگلی صبح پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آ گئے اور مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے آپ رحمۃ اللہ علیہ کو اس کے لیے مقرر کر دیا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایا کہ مجھے مجبور کر دیا گیا۔ اس پر انہوں نے فرمایا: اس کی ابتدا تو سفارش ہےاور اس کا درمیان خیانت ہے اور اس کی انتہا ء جہنم کا عذاب ہے۔
رَجُلُ مِنْ بَنِي سَلُولَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 19- Literature book › 240- What they said about hate clairvoyance. · Hadith 27252
