مصنف ابن أبي شيبة · 19- كِتاب الأدبِ ‹ 203- ما جاء فِي النّمِيمةِ. · حديث 27120
27120- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : كَانَتْ لَنَا جَارِيَةٌ أَعْجَمِيَّةٌ ، فَمَرِضَتْ فَجَعَلَتْ تَقُولُ عِنْدَ الْمَوْتِ : هَذَا فُلاَنٌ تَمَرَّغَ فِي الْحَمْأَةِ ، فَلَمَّا أَنْ مَاتَتْ سَأَلْنَا عَنِ الرَّجُلِ ، قَالَ : فَقَالَ : مَا كَانَ بِهِ بَأْسٌ إلاَّ أَنَّهُ كَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ.
حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن یزید رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: ہماے پاس ایک عجمی باندی تھی وہ بیمار ہو گئی۔ اس نے موت کے وقت یہ کہنا شروع کر دیا: یہ فلاں شخص گندی بد بو دار مٹی میں پلٹیاں کھا رہا ہے۔ جب وہ مر گئی تو ہم نے اس آدمی کے متعلق پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: س میں کوئی خرابی نہیں تھی سوائے اس بات کے کہ وہ چغل خوری کرتا تھا۔
عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 19- Literature book › 203. What came in the name? · Hadith 27120
