مصنف ابن أبي شيبة · 10- كتاب الطَّلاَقِ ‹ 177 - فِي الْمُتَوَفَّى عَنْهَا ، مَنْ قَالَ تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا. · حديث 19188
19188- حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ وَكَانَتْ تَحْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ أُخْتَهُ الفُرَيْعَةَ ابْنَةَ مَالِكٍ قَالَتْ : خَرَجَ زَوْجِي فِي طَلَبِ أَعْلاَجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُوم فَقَتَلُوهُ فَجَاءَ نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الأَنْصَارِ شَاسِعَةٍ عَنْ دُورِ أَهْلِي فَأَتَيْت النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقُلْت : يَا رَسُولَ اللهِ ، إنَّهُ أَتَانِي نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ شَاسِعَةٌ , عَنْ دَارِ أَهْلِي وَدَارُ إخْوَتِي وَلَمْ يَدَعْ مَالاً يُنْفَقُ عَلَيَّ وَلاَ مَالَ وَرِثْته وَلاَ دَارَ يَمْلِكُهَا فَإِنْ رَأَيْت أَنْ تَأْذَنَ فَأَلْحَقَ بدَارَ أَهْلِي ، ودَارَ إخْوَتِي ، فَإِنَّهُ أَحَبُّ إلَيَّ وَأَجْمَعُ إلَيَّ بَعْضَ أَمْرِي قَالَ : فَافْعَلِي إِنْ شِئْتَ ، قَالَتْ : فَخَرَجْت قَرِيرَةَ عَيْنٍ لِمَا قَضَى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى إذَا كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ ، أَوْ فِي بَعْضِ الْحُجْرَةِ دَعَانِي فقال : كَيْفَ زَعَمْت ؟ قَالَتْ : فَقَصَصْت عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، قَالَ : امْكُثِي فِي بَيْتِكَ الَّذِي كَانَ فِيهِ نعي زَوْجُك حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ، قَالَتْ : فَاعْتَدَدْت فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلے جو کہ فرار ہوگئے تھے۔وہ انہیں مقام قدوم میں ملے جہاں انہوں نے اسے شہید کردیا ۔جب مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر ملی تو اس وقت میں انصار کے ایک گھر میں تھی جو میرے اہل وعیال کے گھروں سے دور تھا۔میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا کہ مجھے میرےخاوند کے انتقال کی خبر آپہنچی ہے او ر میں ایک ایسے گھر میں ہوں جو میرے والدین اورمیرے بھائیوں کے گھر سے دور ہے۔میرے خاوند نے میرےلیئے پیسے بھی نہیں چھوڑے جو مجھ پر خرچ کیےجائیں ،نہ مال ہے جس کی میں وارث بنوں نہ ہی کوئی ایسا گھر ہے جس کے وہ مالک ہیں ۔اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اپنے والدین اور بھائیوں کے گھر چلی جاؤں ۔یہ مجھے زیادہ پسند ہے اور اس میں میرے لیئے زیادہ فائدہ ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا تم جو چاہو کرلو۔حضرت فریعہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فیصلہ سن کر میں اس حال میں باہر آئی کہ میری آنکھیں ٹھنڈی تھیں۔پھر اس کے بعد میں مسجد میں تھی یا کسی کمرے میں تھی کہ رسول اللہ ﷺ نےمجھے بلایا اور فرمایا کہ تم نے کیا فیصلہ کیا ؟میں نے سارا واقعہ سنا یا توآپ نے فرمایا کہ اس گھرمیں ٹھہری رہو جس میں تمھارے خاوند کے انتقال کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ مدت پوری ہو جائے۔وہ فرماتی ہیں کہ پھرمیں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گزارے۔
كَانَتْ تَحْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ← زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 177 - In the deceased, whoever says the accustomed in her house. · Hadith 19188
