مصنف ابن أبي شيبة · 10- كتاب الطَّلاَقِ ‹ 276 - فِي مُدَارَاةِ النِّسَاءِ. · حديث 19616
19616- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ أَبِي طَلْقٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَوْسِ بْنِ ثُرَيْبٍ قَالَ : أَكْرَيْتُ الْحُجَّاجَ , فَدَخَلْت الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ , فَإِذَا عُمَرُ وَجَرِيرٌ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِجَرِيرٍ : يَا أَبَا عمْرٍو كَيْفَ تَصْنَعُ مَعَ نِسَائِكَ ؟ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إنِّي أَلْقَى مِنْهُنَّ شِدَّةً ، مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدْخُلَ بَيْتَ إحْدَاهُنَّ فِي غَيْرِ يَوْمِهَا , وَلاَ أُقَبِّلُ ابْنَ إحْدَاهُنَّ فِي غَيْرِ يَوْم أُمِّهِ إلاَّ غَضِبْنَ : قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : إنَّ كَثِيرًا مِنْهُنَّ لاَ يُؤْمِنَّ بِاَللَّهِ وَلاَ يُؤْمِنَّ لِلْمُؤْمِنِينَ ، لَعَلَّكَ أَنْ تَكُونَ فِي حَاجَةِ إحْدَاهُنَّ فَتَتَّهِمُك ، قَالَ : فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ , وَهُوَ فِي الْقَوْمِ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَمَا تَعْلَمُ أَنَّ إبْرَاهِيمَ شَكَا إلَى الله دَرْءًا فِي خُلُقِ سَارَةَ قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : إنَّ الْمَرْأَةَ مِثْلُ الضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتهَا كَسَرْتهَا , وَإِنْ تَرَكْتهَا اعْوَجَّتْ , فَالْبَسْ أَهْلَك عَلَى مَا فِيهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِعَبْدِ اللهِ : إنَّ فِي قَلْبِكَ مِنَ الْعِلْمِ غَيْرَ قَلِيلٍ , قَالَهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، زَادَ فِيهِ بَعْضُ أَصْحَابَهِ , أَظُنُّهُ سُفْيَانَ : مَا لَمْ يَرَ عَلَيْهَا خَرَبة فِي دِينِهَا.
حضرت اوس بن ثریب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حج کے ارادے سے مسجد حرام میں داخل ہو ئے تو مسجد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت جریر رضی اللہ عنہ تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کا اپنی عورتوں کے ساتھ رویہ کیساہے؟انہوں نے عرض کیاکہ مجھے ا ن کی طرف سے بہت سختی کا سامنا ہے ۔میں ان میں سے کسی کے کمرے میں باری کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا ۔اگر میں ان میں سے کسی کے بچے کو بھی ا س کی ماں کی باری کے علاوہ کسی اور دن چوم لوں تو وہ غصے میں آجاتی ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں بہت سی عورتیں ایسی ہوتی ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتیں اور نہ مومنین کو مانتی ہیں۔بلکہ اگر تمہیں ان میں سے کسی کی کھبی ضرورت ہو تو وہ تم پر ہی الزام دھریں گیں۔اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے امیر المومنین ! کیا آپ نے نہین سنا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ تعالی سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہ کے اخلاق اور ان کی نافرمانی کی شکایت کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ عورت پسلی کی طرح ہے ،اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو توڑ دو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو ٹیڑھا کردو گے۔ان کی عادتوں کے باوجود ان کے ساتھ گزارہ کرو۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تمھارے دل میں بہت زیادہ علم ہے۔
عُمَرُ لِجَرِيرٍ يَا أَبَا عمْرٍو كَيْفَ تَصْنَعُ مَعَ نِسَائِكَ ← أَكْرَيْتُ الْحُجَّاجَ فَدَخَلْت الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ فَإِذَا عُمَرُ وَجَرِيرٌ ← أَوْسِ بْنِ ثُرَيْبٍ ← أَبِيهِ ← أَبِي طَلْقٍ ← أَبُو أُسَامَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 276 - In the policing of women. · Hadith 19616
