مصنف ابن أبي شيبة · 10- كتاب الطَّلاَقِ ‹ 19 - فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا. · حديث 18153
18153- حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِكْرًا ثَلاَثًا ؟ قَالَ عَطَاءٌ : فَقُلْتُ : ثَلاَثٌ فِي الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ ، وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو : مَا يُدْرِيَك ؟ إنَّمَا أَنْتَ قَاصِّ وَلَسْتَ بِمُفْتٍ ، الْوَاحِدَةُ تُبَينُهَا وَالثَّلاَثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.
حضرت عطاء رحمۃ اللہ علیہ کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بیٹھا تھا ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باکرہ بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضر ت عطاء رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ باکرہ کو تین کا کیا مطلب ، اس کے لئے تو ایک ہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم ، تم قاضی ہو مفتی نہیں ، ایک طلاق اسے بائنہ بنا دے گی اور تین طلاقیں اسے حرام کر دیں گی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی کر ے ۔
عَطَاءٌ فَقُلْتُ ثَلاَثٌ فِي الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ ← رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بِكْرًا ثَلاَثًا ← كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَسَأَلَهُ رَجُلٌ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 10 - The Book of Divorce › 19 - In a man he marries a woman, then he divorces her three times before he enters into it. · Hadith 18153
