مصنف ابن أبي شيبة · 15- كِتاب الأشرِبةِ ‹ 39- مَنْ كَانَ إِذَا شَرِبَ ماءً بَدَأَ بِالأَيْمَنِ. · حديث 24674
24674- حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عَشْرٍ ، وَتُوُفِّيَ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ عِشْرِينَ ، وَكُنَّ أُمَّهَاتِي يَحْثُثْنَنِي عَلَى خِدْمَتِهِ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَارَنَا ، فَحَلَبْنَا لَهُ مِنْ شَاةٍ دَاجِنٍ لَنَا ، وَشِيْبَ لَهُ مِنْ بِئْرٍ فِي الدَّارِ ، وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ شِمَالِهِ ، وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكَانَ عُمَرُ نَاحِيَةً ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ ، فَأَعْطَى الأَعْرَابِيَّ ، وَقَالَ : الأَيْمَنُ فَالأَيْمَنُ.
حضرت زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا ۔ اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےلیے اپنی ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کے پانی کی آمیزش کی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حضرت ابو بکر کو دے دیں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو دے دیا اور ارشاد فرمایا " دائیں طرف والا ، پھر دائیں طرف والا ۔" ( یعنی یہ حق دار ہے۔)
الزُّهْرِيِّ، سَمِعَهُ مِنْ أَنَسٍ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 15- Book of drinks › 39- Whoever when he drank water, he started with the right one. · Hadith 24674
