مصنف ابن أبي شيبة · 15- كِتاب الأشرِبةِ ‹ 7- فِي الرّخصةِ فِي النَّبِيذِ ، وَمَنْ شرِبه. · حديث 24338
24338- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قُرَّةَ الْعِجْلِيّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِقَدَحٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَقَرَّبَهُ ثُمَّ رَدَّهُ ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ جُلَسَائِهِ : حَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : فَقَالَ : رُدُّوهُ ، فَرَدُّوهُ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ شَرِبَ ، فَقَالَ : اُنْظُرُوا هَذِهِ الأَشْرِبَةَ ، إِذَا اغْتَلَمَتْ عَلَيْكُمْ فَاقْطَعُوا مُتُونَهَا بِالْمَاءِ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے قریب کیا اور پھر وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس کر دیا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض ہم نشینوں نے پوچھا ۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حرام ہے؟ راوی کہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :" یہ پیالا واپس لاو ۔ " چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہ پیالا واپس کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور وہ پانی اس پیالا میں ڈال دیا پھر اس کو نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا : " ان مشروبات کو دیکھو ۔ جب یہ حد کو تمہارے اوپر تجاوز کر جائیں ( یعنی نشہ آور ہو جائیں ) تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ ڈالو۔"
لَهُ بَعْضُ جُلَسَائِهِ حَرَامٌ هُوَ ← كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ فَأُتِيَ بِقَدَحٍ فِيهِ شَرَابٌ فَقَرَّبَهُ ثُمَّ رَدَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← قرة العجلي ← إِسْمَاعِيلُ ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 15- Book of drinks › 7- In the license in the wine, and whoever drinks it. · Hadith 24338
