مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 212- مَا قَالُوا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْجَارِيَةَ وَهِيَ حَامِلٌ أو يسبيها ، مَا قَالُوا في ذلك. · حديث 17757
17757- حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ عَلَى امْرَأَةٍ مُجِحٍّ وَهِيَ عَلَى بَابِ خِبَاءٍ ، أَوْ فُسْطَاطٍ , فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ ؟ فَقَالُوا : لِفُلاَنٍ ، قَالَ : أَيُلِمُّ بِهَا ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : لَقَدْ هَمَمْت أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ , فَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ يَغْذُوهُ فِي بَصَرِهِ وَسَمْعِهِ , كَيْفَ يَرِثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ.
حضرت ابو دردا ء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک غزوہ کے موقع پر حضور ﷺ ایک ایسی حاملہ عورت کے پاس سے گزرے جو قریب الولادت تھی ( اور قیدی بنا کر لائی گئی تھی ) ، وہ خیمے کے دروازے پر کھڑی تھی ۔ حضور ﷺ نے استفسار فرمایا کہ یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا کیا وہ اس سے جماع کرتا ہے ؟لوگوں نے بتایا جی ہاں ۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خیال آتا ہے کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو قبر میں اس کے ساتھ جائے ۔ وہ اس ( سے پیدا ہونے والے بچے ) سے کیسے خدمت لے گا حالانکہ اس کی سماعت اور بصارت کو تقویت دے رہا ہے ؟وہ اس کا وارث کیسے ہو گا حالانکہ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہے؟
أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ
Hadith 17757
