مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 14- مَا قَالُوا فِي الْمَيِّتِ كَمْ يُغَسَّلُ مَرَّةً وَمَا يُجْعَلُ فِي الْمَاءِ مِمَّا يُغَسَّلُ بِهِ. · حديث 11021
11021- حَدَّثَنَا إسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُتَيٍّ ، عَنْ أُبَيٍّ ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ آدَم أَمَرَ بَنِيهِ أَنْ يَجِدُّوا مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَجَاؤوا فَتَلَقَّتْهُمَ الْمَلاَئِكَةُ فَقَالُوا : ارْجِعُوا فَقَدْ أَمَرَ اللَّهُ بِقَبْضِ أَبِيكُمْ فَرَجَعُوا مَعَهُمْ فَقَبَضُوا رُوحَهُ وَجَاؤُوا مَعَهُمْ بِكَفَنِهِ وَحَنُطُوه ، وَقَالُوا لِبَنِيهِ : احْضُرُونَا ، فَاغْسِلُوهُ ، وَكَفِّنُوهُ ، وَحَنِّطُوهُ ، وَصَلَّوْا عَلَيْهِ ، ثم قَالُوا : يَا بَنِي آدَمَ ، هَذِهِ سُنَّتكم بَيْنَكُمْ.
حضرت ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ ان کے لئے جنت کے پھل لے کر آئیں ، پس وہ چلے گئے، جب وہ فرشتوں سے ملے تو فرشتوں نے کہا، تم واپس لوٹو اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کی روح قبض کرنے کا حکم فرمایا ہے ، وہ فرشتے ان کے ساتھ لوٹے اور ان کی روح قبض فرمائی اور وہ اپنے ساتھ کفن اور خوشبو لائے اور ان کے بیٹوں سے کہا ، ان کے پاس حاضر ہو جاؤ، ان کو غسل دو ، ان کو کفن دو اور خوشبو لگاؤ اور ان پر نماز پڑھو، پھر فرمایا اے بنی آدم! یہ تمہارے والد کی سنت ہے۔
أَبِي ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 14 - What they said in the dead is how it was washed once, and what is put in the water, which is washed with it. · Hadith 11021
