مصنف ابن أبي شيبة · 8- كتاب المناسك ‹ 151 - مَنْ قَالَ إذَا وَقَفَ بِعَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ. · حديث 13863
13863- حدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمُرَ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْت رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ، وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ الْحَجُّ ؟ قَالَ : الْحَجُّ عَرَفَةُ ، فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ لَيْلَةَ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ ، مِنًى ثَلاَثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلاً خَلْفَهُ يُنَادِي بهِنَّ.
حضرت عبد الرحمنٰ بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں مقیم تھے ، اور اہل مکہ میں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہور ہے تھے ، انھوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حج کیسے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:حج وقوف عرفہ کا نام ہے ، پس جوشخص طلوع فجر سے قبل جماعت والی رات میں عرفہ آ یا اس کا حج مکمل ہوگیا منیٰ میں تین دن ہیں ، پس جس نے دو دنوں سے جلدی کی اس پر کوئی گنا ہ نہیں ،اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کواپنا ردیف بنایا جوان کلمات کی آ واز لگار ہا تھا۔
رَسُولَ اللهِ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَالُوا ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 8- The Book of Rites › 151 - He who says if he stood by Arafat before dawn breaks, he understands. · Hadith 13863
