مصنف ابن أبي شيبة · 1-1- كتاب الطهارة ‹ 220- مَنْ كَانَ لاَ يَرَى الْمَسْحَ · حديث 1957
1957- حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنَ سَالِمٍ ، قَالَ : خَرَجَ مُجَاهِدٌ وَأَصْحَابٌ لَهُ ، فِيهِمْ عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، قَالَ : خَرَجُوا حُجَّاجَا ، فَكَانَ عَبْدَةَ يَؤُمُّهُمْ فِي الصَّلاَةِ ، قَالَ : فَبَرَزَ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَتِهِ ، فأَبْطَأَ عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ : مَا حَبَسكَ ؟ قَالَ : إِنَّما قَضَيْتُ حَاجَتِي ، ثُمَّ تَوَضَّأْتُ ، وَمَسَحْتُ عَلَى خُفِّي ، فَقَالَ لَهُ مُجَاهِدٌ : تَقَدَّمْ فَصَلِّ بِنَا ، فَمَا أَدْرِي مَا حَسْبُ صَلاَتِكَ.
حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد اوران کے کچھ ساتھی جن میں حضرت عبداہ بن ابی لبابہ بھی تھے ۔ وہ حج کے ارادے سے جار ہے تھے ۔ حضرت عبدہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے ۔ ایک دن وہ رفع حاجت کے لیے گئے ، اور بہت دیر کر دی۔ جب وہ آئےتو حضرت مجاہد نے ان سے کہا کہ تم نے دیر کیوں کی ؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے رفع حاجت کی ، پھر میں نے وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا ۔حضرت مجاہد نے فرمایا چلوآ گے بڑھواور نماز پڑھاؤ میں نہیں جانتا کہ تمہاری نماز کے لیے کیا چیز کافی ہے( دھونا یا مسح کرنا؟ )
إِنَّما قَضَيْتُ حَاجَتِي ثُمَّ تَوَضَّأْتُ وَمَسَحْتُ عَلَى خُفِّي ← لَهُ مُجَاهِدٌ مَا حَبَسكَ ← فَبَرَزَ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَتِهِ فأَبْطَأَ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا جَاءَ ← خَرَجُوا حُجَّاجَا فَكَانَ عَبْدَةَ يَؤُمُّهُمْ فِي الصَّلاَةِ ← خَرَجَ مُجَاهِدٌ وَأَصْحَابٌ لَهُ فِيهِمْ عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← هُشَيْمٌ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 1- Purity Book › 220- Whoever does not see the survey · Hadith 1957
