حضرت عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حنفیہ سے سوال کیا کہ اگر کسی آدمی کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں تو کیا وہ ان دونوں سے جماع کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انہیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس آیا تو انہوں نے بھی محمد بن حنفیہ والی بات کہی ۔ پھر میں نے حضرت ابن منبہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل کر دہ شریعت کے مطابق دو بہنوں کو نکاح میں جمع کر نے والا ملعون ہے۔ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ دونوں آزاد ہوں یا باندیاں ۔ عبدالعزیز کہتے ہیں کہ میں نے جا کر ابن منبہ کی بات سعید بن مسیب کو بتائی تو انہوں نے اللہ کی تکبیر بیان کی۔
حضرت حسن سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں ، ایک سے جماع کیا ہوتو کیا دوسری سے جماع کر سکتا ہے؟انہوں نے فرمایا کہ نہیں جب تک صحبت شدہ کو اپنی ملکیت سے نہ نکال دے اس وقت تک جائز نہیں۔
يُونُسَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 51- In men, the two sisters have two kings, and all of them shall be seated. · Hadith 16516
مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 51- في الرجل يَكُونُ عِنْدَهُ الأُخْتَانِ مَمْلُوكَتَانِ فَيَطَأَهُمَا جَمِيعًا. · حديث 16517
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی شخص کی ملکیت میں دو بہنیں ہوں ، ایک سے جماع کیا ہو تو کیا دوسری سے جماع کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک آیت نے انہیں حلال اور دوسری نے حرام قرار دیا ہے۔ البتہ میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کر تا ہوں ۔ پھر وہ سوال کرنے والا دروزاہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں اور اگر مجھے تم پر قدرت ہوئی اور تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں سزادونگا۔
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ عرب کے ایک قبیلے نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا آدمی دو مملوک بہنوں سے جماع کر سکتا ہے؟ انہوں نے ا سکے جواز کا فتویٰ دیا ۔ یہ بات حضرت نعمان بن بشیر کو پہنچی ، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس فتویٰ کا اقرار کیا۔ اس پر حضرت نعمان بن بشیر نے فرمایا کہ آپ یہ بتائیں کہ اگر وہ باندی کسی ایسے شخص کے پاس ہوتی جس کی بہن باندی ہو تو کیا اس کے لئے اس سے وطی کرنا جائز ہے؟ یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے میری آنکھیں کھول دیں ۔ تم ان لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں ایسا کرنے سے منع کرو۔ ان کے لئے ایسا کرنا مناسب نہیں ہے ۔ حضرت قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے کہا یہ آزادی وغیر ہ کا رحمی رشتہ ہے۔
حضرت قتادہ سے سوال کیا گیا کہ اگر آدمی نے منکوحہ کو دخول سے پہلے طلاق دے دی تو کیا اس کی ماں سے نکاح کر سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ ربیبہ کے درجہ میں ہے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 52 - A man marries a woman, then divorces her, before he enters into her, as a god, to marry her mother. · Hadith 16521
مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 52- الرجل يتزوج الْمَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَلَهٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا. · حديث 16522
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 52 - A man marries a woman, then divorces her, before he enters into her, as a god, to marry her mother. · Hadith 16522
مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 52- الرجل يتزوج الْمَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَلَهٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا. · حديث 16523
حضرت زید بن ثابت کو قبل از دخول طلاق دینے کی صورت میں عورت کی ماں سے نکاح کو بالکل جائز سمجھتےتھے۔ اور قبل از دخول عورت کے انتقال کی صورت میں اسے مکروہ بتاتے تھے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 52 - A man marries a woman, then divorces her, before he enters into her, as a god, to marry her mother. · Hadith 16523
مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 52- الرجل يتزوج الْمَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَلَهٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا. · حديث 16524
بنو بکر بن کناہ کے حضر مسلم بن عویمر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے طائف میں ایک عورت سے میری شادی کی۔ ابھی میں نے اس سے جماع نہ کیا تھا کہ اس کی ماں کے خاوند کا انتقال ہوگیا ۔ اس کی ماں ایک مالدار عورت تھیں ۔میرے والد نے مجھ سے کہا کہاگر تم اس کی ماں سے شادی کر لو تو بہتر ہے۔ میں نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن میں نے اس کی بیٹی سے نکاح کر لیا ہےپھر اس بارے میں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم اس سے نکاح کر لو۔ پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نکاح نہ کرو ۔ پھر ابو عویمر نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر ایک خط لکھا جس میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی رائے درج کی اور اس بارے میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم کی۔ حضرت معاویہ نے انہیں خط میں لکھا کہ جو چیز اللہ نے حلال کی ہے میں اسے حرام نہیں کر تا اور جو حرام کی ہے میں اسے حلال نہیں کرتا ۔ آپ کے پاس اور بھی بہت سی عورتیں ہیں ۔ پھر انہوں نے نہ مجھے منع کیا اور نہ اجازت دی۔ پھر میرے والد نے اس خیال کو چھوڑ دیا اور ہم نے اس سے نکاح نہ کیا۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 52 - A man marries a woman, then divorces her, before he enters into her, as a god, to marry her mother. · Hadith 16524
مصنف ابن أبي شيبة · 9- كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ 52- الرجل يتزوج الْمَرْأَةَ ثُمَّ يُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَلَهٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُمَّهَا. · حديث 16525
حضرت ابو عمر و شیبانی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا کہ کسی آدمی نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی یا مرگیا تو وہ عورت کی ماں سے شادی کر سکتا ہے۔پھر جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے اپنے فتویٰ سے رجوع کر لیا اور لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ حالانکہ عورتوں کی شادی کے بعد بچے بھی ہو چکے تھے۔
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 9- The book of marriage › 52 - A man marries a woman, then divorces her, before he enters into her, as a god, to marry her mother. · Hadith 16525