مصنف ابن أبي شيبة · 6- كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ 2- باب ما جاء فِي ثَوَابِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ. · حديث 10941
10941- حدَّثنا شَرِيك ، عن عَلْقَمة بن مَرْثَد ، عن بعض آل أَبي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى عَلِيًّا ، فَقَالَ لَهُ : مَا جَاءَ بِكَ ؟ أَجِئْتَ عَائِدًا ؟ قَالَ : مَا عَلِمْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَكْوَى ، فَقَالَ : بَلَى ، الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : مَنْ عَادَ مَرِيضًا نَهَارًا ، صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ عَادَ لَيْلاً ، صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ ، حَتَّى يُصْبِحَ.
حضرت علقمہ بن مرثد رحمۃ اللہ علیہ آل ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا آپ کیوں تشریف لائے ؟ کیا آپ مزاج پرسی کے لئے تشریف لائے ہیں؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا مجھے نہیں معلوم کہ تم میں سے کوئی بیمار ہے ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیوں نہیں حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بیمار ہیں) پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : جس نے صبح کے وقت مریض کی عیادت کی اس کے لئے ستر ہزار فرشتے شام تک دعائے مغفرت فرماتے ہیں ، اور جو شام کے وقت مریض کی عیادت کرتا ہے اس کے لئے ستر ہزار فرشتے صبح تک دعائے مغفرت فرماتے رہتے ہیں۔
بَلَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ثُمَّ ← مَا عَلِمْتُ لأَحَدٍ مِنْكُمْ بِشَكْوَى ← لَهُ مَا جَاءَ بِكَ أَجِئْتَ عَائِدًا ← بعض آل أَبي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ أَتَى عَلِيًّا ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شَرِيکٍ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 6- Book of Funerals › 2- Chapter of what is mentioned in the reward of the sick clinic. · Hadith 10941
