مصنف ابن أبي شيبة · 14- كِتَابُ الطِّبِّ ‹ 2- مَنْ كَرِهَ الطِّبَّ وَلَمْ يَرَهُ. · حديث 23894
23894- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : قيلَ لِلرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ فِي مَرَضِهِ : أَلاَ نَدْعُو لَكَ الطَّبِيبَ ؟ فَقَالَ : أَنْظِرُونِي ، ثُمَّ تَفَكَّرَ فَقَالَ : {وَعَادًا وَثُمَّودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا وَكَُلاًّ ضَرَبْنَا لَهُ الأَمْثَالَ وَكُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا} فَذَكَرَ مِنْ حِرْصِهِمْ عَلَى الدُّنْيَا وَرَغْبَتِهِمْ فِيهَا ، قَالَ : فَقَدْ كَانَتْ مَرْضَى ، وَكَانَ فِيهِمْ أَطِبَّاءُ ، فَلاَ الْمُدَاوِي ، وَلاَ الْمُدَاوَى ، هَلَكَ النَّاعِتُ وَالْمَنْعُوتُ لَهُ ، وَاللَّهِ لاَ تَدْعُوا لِي طَبِيبًا.
حضرت عبدالملک بن عمیر سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو ان کی بیماری میں پوچھا گیا کہ ہم آپ کے لیے طبیب کو بلائیں؟ انہوں نے فرمایا۔ تم مجھے مہلت دے دو، پھر انہوں نے غور و فکر فرمایا اور کہا:( و عا دا وثمود واصحاب الرس وقرنا بین ذلک کثیر و کلا ضربنا لہ الا مثال وکلا تبرنا تتبیراً)پھر انہوں نے ان لوگوں دنیا پر حرص اور ان کی دنیا میں دلچسپی کا ذکر کیا ، فرمایا یہ لوگ بھی مریض تھے۔ اور ان میں اطباء بھی تھے۔ پس نہ کوئی دوائی لینے والا ہے نہ کوئیدوائی دینے والا ہے۔ تعریف کرنے والا بھی ہلاک ہو گیا اور جس کی گئی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ خدا کی قسم !تم لوگ میرے لیے طبیب نہ بلاؤ۔
مِنْ حِرْصِهِمْ عَلَى الدُّنْيَا وَرَغْبَتِهِمْ فِيهَا ← أَنْظِرُونِي ثُمَّ تَفَكَّرَ ← قيلَ لِلرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ فِي مَرَضِهِ أَلاَ نَدْعُو لَكَ الطَّبِيبَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ.
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 14- Medical Book › 2- He who hates medicine and does not see it. · Hadith 23894
