مصنف ابن أبي شيبة · 8- كتاب المناسك ‹ 95- فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ}. · حديث 13527
13527- حدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ {فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} إلَى قَوْلِهِ : {أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا} قَالَ : إذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ حُكِمَ عَلَيْهِ بِجَزَائِهِ مِنَ النَّعَمِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَظَرَ كَمْ ثَمَنُهُ ، ثُمَّ قَوَّمَ ثَمَنَهُ طَعَامًا ، فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا ، {أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ ، أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا} قَالَ : إنَّمَا أُرِيدَ بِالطَّعَامِ الصِّيَامَ ، إِنَّهُ إذَا وَجَدَ الطَّعَامَ وَجَدَ جَزَاءَهُ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’ فجزاء مثل ما قتل من النعم “ سے لے کر’’ او عدل ذلك صیاما ‘‘کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر اس کی جزاءاونٹ کا حکم دیا جائے گا ،اوراگروہ اونٹ نہ پائےتو شکار کی قیمت دیکھے کہ کتنی ہے؟ پھر اس کی قیمت کو کھانے کے ساتھ متعین کرے اور ہر نصف صاع کے بد لے ایک روز ہ ر کھے ،اوراللہ پاک کے ارشاد ’’ اوکفارة طعام مسكين او عدل ذلك صیامًا‘‘ میں کھانے کا روزے کے ساتھ ارادہ کیا گیا ہے، جب وہ کھانے کو پالے تو اس نے شکار کی جزاءکو پالیا۔
ابن عباس إلى قوله ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ
Hadith 13527
