مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 9- فِي زكاة الإِبِلِ ، مَا فِيهَا ؟. · حديث 9991
9991- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الأَجْلَحِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم إلَى الْيَمَنِ أَنْ يُؤْخَذَ مِنَ الإِبِلِ مِنْ كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، وَمِنْ كُلِّ عَشْرٍ شَاتَانِ ، وَمِنْ خَمْسَةَ عَشَرَ ثَلاَثُ شِيَاهٍ ، وَمِنْ عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ ، وَمِنْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي الإِبِلِ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إلَى سِتِّينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إلَى تِسْعِينَ ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، فَإِذَا كَثُرَتِ الإِبِلُ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ ، وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ، وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ ، وَلاَ هَرِمَةٌ ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ . قَالَ الأَجْلَحُ : فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ : مَا يَعْنِي بِقَوْلِهِ : لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ؟ قَالَ : الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْغَنَمُ فَلاَ يُفَرِّقُهَا كَيْ لاَ يُؤْخَذَ مِنْهَا صَدَقَةٌ ، وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ الْقَوْمُ تَكُونُ لَهُمَ الْغَنَمُ لاَ تَجِبُ فِيهَا الزَّكَاةُ ، فَلاَ تُجْمَعُ فَتُؤْخَذُ مِنْهَا الصَّدَقَةُ.
حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن ( کے قاضی کو ) لکھا : پانچ اونٹوں پر ایک بکری زکوٰۃ ہے، اور دس اونٹوں پر دو بکریاں ، اور پندرہ اونٹوں پر تین بکریاں اور بیس اونٹوں پر چار اور پچیس اونٹوں پر پانچ بکریا اور پچیس سے ایک اونٹ زائد ہو جائے تو اس پر بنت مخاص ہے پینتیس اونٹوں تک ، اور اگر زکوٰۃ میں دینے کے لیے مخاص نہ پائے تو مذکر ابن لبون دیدے ۔ اور جب پینتیس سے ایک اونٹ زائد ہو جائے تو پینتالیس تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس سے ایک اونٹ زائد ہو جائے تو ساٹھ تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ اونٹوں سے ایک اونٹ زائد ہو جائے تو پچہتر اونٹوں تک ایک جذعہ ہے اور جب پچہتر سے ایک زائد ہو جائے تو اس پر دو بنت لبون ہیں ۔ نو ے تک اسی طرح ہے، جب نوے سے ایک اونٹ زائد ہو جائےتو ایک سو بیس تک دو حقے ہیں ، پھر جب اونٹ ایک سو بیس سے بھی زائد ہو جائیں تو ہر پچاس پر ایک حقہ اور ہر چالیس پر ایک بنت لبون آئے گا، اور متفرق کو جمع اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور زکوٰۃ وصول کرتے وقت بہت چھوٹا یا بہت بوڑھا جانور وصول نہیں کیا جائے گا( بلکہ درمیانہ وصول کیا جائے گا) اور نہ کانا اور بہت کمزور جانور وصول کیا جائے گا۔ اجلح راوی فرماتے ہیں کہ میں نے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا کہ " لا یجمع بین مفترق ، ولا یفرق بین مجتمع" کا کیا مطلب ہے ؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی کے پاس چوپائے ہوں تو وہ اس نیت سے ان کو متفرق نہ کرے تاکہ متفرق ( جب نصاب زکوٰۃ نہ پہنچے تو اس پر) زکوٰۃ نہ آئے اور نہ ہی متفرق کو جمع کرے یعنی کسی قوم کے پاس چوپائے تو ہوں لیکن ان پر زکوٰۃ نہ آرہی ہو تو مصدق ( زکوٰۃ وصول کرنے والا ) ان سب کو ایک ساتھ جمع کرکے زکوٰۃ وصول نہ کرے۔
فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إلَى خَمْسٍ ← ثَلاَثِينَ فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي الإِبِلِ بِنْتَ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← الأَجْلَحِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 9- In zakat on camels, what is there? · Hadith 9991
