مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 104- فِي نَصَارَى بَنِي تَغْلِبَ ، مَا يُؤْخَذُ مِنْهُمْ. · حديث 10686
10686- حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ ، فَجَعَلَ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ فِي أَمْوَالِهِمَ الَّتِي يَخْتَلِفُونَ بِهَا فِي كُلِّ عِشْرِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا ، وَكَتَبَ بِذَلِكَ إلَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَرَضِيَ وَأَجَازَهُ ، وَقَالَ لِعُمَرَ : كَمْ تَأْمُرُنَا أَنْ نَأْخُذَ مِنْ تُجَّارِ أَهْلِ الْحَرْبِ ؟ قَالَ : كَمْ يَأْخُذُونَ مِنْكُمْ إذَا أَتَيْتُمْ بِلاَدَهُمْ ؟ قَالُوا : الْعُشْرَ ، قَالَ : فَكَذَلِكَ فَخُذُوا مِنْهُمْ.
حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان بن حنیف رحمۃاللہ علیہ کو (عشر و غیرہ وصول کرنے کے لئے ) بھیجا، انہوں نے ذمیوں کے اموال پر جو دوسرے شہروں میں منتقل ہو گئے تھے اور تجارت کرتے تھے ہر بیس درہم پر ایک درہم مقرر کردیا، اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ لکھ کر بھیج دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس پر راضی ہو گئے اور اس کی اجازت دے دی ۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ : آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں کہ ہم اہل حرب کے تاجروں سے کتنا وصول کریں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو تو تم سے کتنا وصول کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا عشر ، تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اتنا ہی تم ان سے وصول کرو۔
اَبِیْ مِجْلَزٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← أَبُو أُسَامَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 104- In Nassara Bani Teklb, what is taken from them. · Hadith 10686
