مصنف ابن أبي شيبة · 5- كِتَابُ الزَّكَاةِ ‹ 55- فِي زَكَاةِ الدَّيْنِ. · حديث 10351
10351- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : زَكَاةُ أَمْوَالِكُمْ حَوْلٌ إلَى حَوْلٍ ، فَمَا كَانَ مِنْ دَيْنٍ ثِقَةٍ فَزَكُّوه ، وَمَا كَانَ مِنْ دَيْنِ ظُنُون فَلاَ زَكَاةَ فِيهِ ، حَتَّى يَقْضِيَهُ صَاحِبُهُ.
حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ تمہارے اموال پر زکوۃ سال مکمل ہونے کے بعد ہے ۔ پس جو قرض ایسا ہو کہ اس کا ملنا یقینی ہو تو اس پر بھی زکوٰۃ ادا کر دینی چاہئے اور جس قرض کے بارے میں شک ہو اس پر زکوٰۃ ادا نہ کرے جب تک مقروض قرض ادا نہ کر دے ۔
ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← موسى بن عبيدة ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 5- The Book of Zakat › 55- In Zakat on debt. · Hadith 10351
