مصنف ابن أبي شيبة · 4- كتاب الصّيام ‹ 57- مَا قَالُوا فِي صَوْمِ يَوم عَاشُورَاءَ. · حديث 9451
9451- حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : دَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللهِ وَهُوَ يَتَغَدَّى ، فَقَالَ : يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ، اُدْنُ إلَى الْغَدَاء ، فَقَالَ : أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ فَقَالَ : وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : وَمَا هوَُ ؟ قَالَ : إنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يُنَزَّلَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرَكَ.
حضرت عبدالرحمیں بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اشعث بن قیس حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے۔ آ پ نے اشعث بن قیس کو بھی کھانے کی دعوت دی ۔ انہوں نے کہا کہ کیا آج عاشوراء ک ادن نہیں ؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو عاشوراء کا دن کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی فرضیت سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے ، جب رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپ نے اس دن روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔
وَمَا هُوَ؟ ← وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ ← أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ← يَا أَبَا مُحَمَّدٍ اُدْنُ إلَى الْغَدَاء ← دخل الأشعث بن قيس على عبد الله وهو يتغدى ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← عُمَارَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 4- Book of fasting › 57 - They did not fast on the day of Ashura. · Hadith 9451
