مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 797- في الصلاة عَلَى غَيْرِ الأَنْبِيَاءِ. · حديث 8809
8809- حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَيْتُُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي ، قَالَ : انْصَرِفْ أَنَا آتِيكُمْ ، فَأَتَانَا وَقَدْ قُلْتُ لِلْمَرْأَةِ لاَ تُكَلِّمِينَ رَسُولَ اللهِ ، وَلاَ تُؤْذِينَهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي ، فَقَالَ صلى الله عليه وسلم : صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَأْتِينَا وَلاَ تَدْعُو لَنَا ؟
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ایک قرضے کے سلسلے میں مدد حاصل کرنے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تم چلے جاؤ، میں خود تمہارے گھر آتا ہوں۔ میں نے گھر آ کر اپنی بیوی سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی بات نہ کرنا اور آپ کو تکلیف نہ دینا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میرے لئے اور میرے خاوند کے لئے رحمت کی دعا کر دیجیے ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تجھ پر اور تیرے خاوند پر رحمت نازل فرمائے ۔ اس عورت نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! آپ ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ہمیں کیوں نہیں بلا لیا۔
جَابِرٍ ← نُبَيْحٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 797- When praying according to different prophets. · Hadith 8809
