مصنف ابن أبي شيبة · کتاب ‹ 793- مَنْ كَانَ يَكْرَهُ إذَا أَكَلَ بَصَلاً أَوْ ثُومًا أَنْ يَحْضُرَ الْمَسْجِدَ. · حديث 8749
8749- حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ جُمُعَةٍ خَطِيبًا ، أَوْ خَطَبَنَا يَوْمَ جُمُعَةٍ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاس إنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ لاَ أُرَاهُمَا إِلاَّ خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الثُّومَ وَهَذَا الْبَصَلَ ، لَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إلَى الْبَقِيعِ ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا لاَبُدَّ فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.
حضرت معدان بن ابی طلحۃ یعمری کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا جس میں ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! تم دو سبزیاں ایسی کھانے ہو جو میرے خیال میں بری ہیں ۔ ایک تھوم اور دوسری پیاز ۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں اگر کوئی ان سبزیوں کو کھاتا اور اس کے منہ سے ان کی بدبو محسوس ہوتی تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت البقیع کی طرف لے جایا جاتا تھا۔ اگر کسی نے انہیں کھانا بھی ہو تو انہیں پکا کر ان کی بدبو کو مار دے ۔
سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ،
Musannaf Ibne Abi Shaibah · 3- The Book of Prayer › 793- Whoever hates him if he eats onions or garlic, attends the mosque. · Hadith 8749
