مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الطَّلَاقِ ‹ بَابُ الْقَلِيلِ مِنَ الرَّضَاعِ · حديث 13919
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سَأَلَهُ رَجُلٌ، أَتُحَرِّمُ رَضْعَةٌ أَوْ رَضْعَتَانِ؟ فَقَالَ: «مَا نَعْلَمُ الْأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلَّا حَرَامًا»، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَا تُحَرِّمُ رَضْعَةٌ، وَلَا رَضْعَتَانِ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «قَضَاءُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ وَقَضَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ». عَبْدُ الرَّزَّاقِ، [ص:468]
13919 - عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر کو سنا ایک شخص نے ان سے سوال کیا : کیا ایک یا دو رضاعتیں حرمت کو ثابت کر دیتی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں اس بات کا علم ہے کہ رضاعی بہن حرام ہوتی ہے ایک شخص نے کہا: امیر المومنین! اس بات کے قائل ہیں اس شخص کی مراد حضرت عبداللہ بن زبیر تھے کہ ایک یا دو رضاعتیں حرمت کو ثابت نہیں کرتی ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمہارے فیصلے سے اور امیر المؤمنین کے فیصلے سے بہتر ہے ۔
عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · The Divorce Book › Chapter on a little breastfeeding · Hadith 13919
