مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابٌ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ · حديث 1820
عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَمَنْ أَرَادَ الصَّوْمَ، فَلَا يَمْنَعُهُ أَذَانُ بِلَالٍ حَتَّى يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ» قَالَ: وَكَانَ أَعْمَى فَكَانَ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ: أَصْبَحْتَ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ جَاءَ يُؤَذِّنُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ نَائِمٌ، فَنَادَى بِلَالٌ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، فَأُقِرَّتْ فِي الصُّبْحِ
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بلال صبح صادق ہونے سے پہلے ہی اذان دے دیتا ہے تو جو شخص رازہ رکھنا چاہتا ہو اُس کے لیے بلال کی زبان رُکاوٹ نہ بنے جب تک ابن اُم مکتوم اذان نہیں دے دیتا راوی بیان کرتے ہیں: وہ نابینا تھے اور وہ اُس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک اُنہیں یہ کہہ نہیں دیا جاتا تھا صبح ہو چکی ہے ۔ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت بلال نے اذان دی پھر وہ نبی اکرم ﷺ کو بلانے کے لیے آئے تو اُنہیں بتایا گیا کہ نبی اکرم ﷺ سو رہے ہیں تو حضرت بلال نے بلند آواز میں پکارا: الصلوٰۃخیر من النوم تو یہ کلمہ صبح کی اذان میں شامل کر لیا گیا ۔
ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › The door of prayer is better than sleeping · Hadith 1820
