مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْقَوْمِ يَجْتَمِعُونَ مَنْ يَؤُمُّهُمْ؟ · حديث 3806
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: قَوْمٌ اجْتَمَعُوا فِي سَفَرٍ قُرَشِيٌّ، وَعَرَبِيٌّ، وَمَوْلًى، وَعَبْدٌ، وَأَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، أَيُّهُمْ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ؟ قَالَ: «كَانَ يَؤُمُّهُمْ أَفْقَهُهُمْ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْفِقْهِ سَوَاءً فَأَقْرَؤُهُمْ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْفِقْهِ وَالْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَسَنُّهُمْ»، قُلْتُ: فَإِنْ كَانُوا فِي الْفِقْهِ وَالْقِرَاءَةِ سَوَاءً، وَكَانَ الْعَبْدُ أَسَنُّهُمْ، أَيَؤُمُّهُمْ لِسِنِّهِ، فَيَؤُمُّ الْقُرَشِيَّ وَغَيْرَهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَمَا لَهُمْ لَا يَؤُمُّهُمْ أَعْلَمُهُمْ، وَأَقْرَؤُهُمْ، وَأَسَنُّهُمْ مَنْ كَانَ» قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: «وَكَانَ الثَّوْرِيُّ يَعْتَنِي بِهِ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: کچھ لوگ سفر میں اکھٹے ہو جاتے ہیں: اُن میں قریشی بھی ہوتے ہیں عربی بھی ہیں غلام بھی ہیں آزاد شدہ غلام بھی ہیں دیہات کے رہنے والے دیہاتی بھی ہیں تو اُن میں سے اپنے ساتھیوں کی امامت کون کر ے گا ؟ عطا ء نے جواب دیا: اُن کی امامت وہ کرے گا جو اُن میں سے سب سے زیادہ فقیہ ہو اگر وہ فقہ میں برابر ہوں تو وہ کر ے گا جس کو سب سے زیادہ اچھی قرات آتی ہو وہ فقہ اور قرات میں برابر ہوں تو امامت وہ کرے گا جس کی عمر زیادہ ہو ۔ میں نے کہا: اگر وہ فقہ اور قرات میں برابر ہوں اور جو غلام ہیں وہ اُن سے بڑا ہو تو کیا وہ اپنی عمر کی وجہ سے اُن کی امامت کرے گا ؟ وہ ایک قریشی یا دوسرے امامت کرے گا ؟ عطا ء ن جواب دیا: جی ہاں! وہ اُن کی امامت کیوں نہ کرے ! جبکہ وہ اُن میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اُن میں سب سے زیادہ اچھی قرات جانتا ہے اُن میں سب سے زیادہ عمر والا ہے ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں: سفیان ثوری بھی اس بات کے قائل تھے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 3806
