مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ إِذَا اجْتَمَعَ السَّهْوُ وَالتَّكْبِيرُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ · حديث 3537
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامٍ قَالَ: اخْتَلَفَ الْحَسَنُ، وَابْنُ سِيرِينَ فِي رَجُلٍ يَفُوتُهُ بَعْضُ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، فَقَالَ الْحَسَنُ: «يُكَبِّرُ مَعَ الْإِمَامِ إِذَا كَبَّرَ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْضِيَ مَا فَاتَهُ»، وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: «يَقُومُ فَيَقْضِيَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ كَبَّرَ بَعْدُ» وَأَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ قَوْلُ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «يَقُومُ فَيَقْضِيَ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
– ہشام بیان کرتے ہیں: حسن بصری اور ابن سیرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا جس شخص کی نماز کا کچھ حصہ رہ جاتا ہے اور ایام تشریق میں ایسا ہوتا ہے ؟ تو حسن بصری فرماتے ہیں: جب امام تکبیر کہے گا تو وہ پہلے تکبیر کے ساتھ تکبیر پڑھے گا پھر اُٹھ کر جو نماز رہ گئی تھی اُسے ادا کرے گا ۔ جبکہ ابن سیرین کہتے ہیں: وہ اُٹھ کر نماز ادا کرے گا جب نماز پڑھ کر فارغ ہو جائے گا اُس کے بعد وہ تکبیر کہے گا ۔ سفیان ثوری کے نزدیک ابن سیرین کا قول زیادہ پسندیدہ ہے وہ یہ فرماتے ہیں: وہ شخص اُٹھ کر پہلے نماز ادا کرے گا ۔
هِشَامٍ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 3537
