مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ الْإِمَامِ لَا يُتِمُّ الصَّلَاةَ · حديث 3804
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: إِمَامٌ لَا يُوفِي الصَّلَاةَ، أَعْتَزِلُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: «بَلْ صَلِّ مَعَهُ، وَأَوْفِ مَا اسْتَطَعْتَ وَإِنْ قَامَ»، قُلْتُ: وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَ فِي بَادِيَةٍ مَعَ الْإِمَامِ، وَلَا يُتَمَّمُ قَالَ: «وَكَذَلِكَ فَأَتِمَّهُ أَنْتَ»، قُلْتُ: فَكُنْتُ أَنَا وَرَجُلٌ فِي سَفَرٍ فَوَجَدْنَا، فَكَانَ يَؤُمُّنِي وَلَا يُتِمُّ، وَأُصَلِّي وَحْدِي؟ قَالَ: «بَلْ صَلِّ مَعَهُ وَأَوْفِ، اثْنَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ وَاحِدٍ، وَثَلَاثَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنِ اثْنَيْنِ»
ابن جریح بیان کرتے ہیں: میں نے عطا ء سے دریافت کیا: اگر امام نماز کو مکمل نہیں کرتا تو کیا میں نماز سے ا لگ ہو جاؤں گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: جی نہیں ! بلکہ تم اُس کے ساتھ نماز ادا کرو گے اور جہاں تک تم سے ہو سکے تم اُس کے ساتھ نماز ختم کرو گے خواہ امام اُٹھ کھڑا ہوا ہو ۔ میں نے دریافت کیا: کیا اگر ویرانے میں امام کے ساتھ اس طر ح ہو کہ وہ اپنی نماز کو مکمل نہیں کر سکتا تو کیا پھر بھی یہی ہو گا ؟ اُنہوں نے جواب دیا: اسی طرح ہو گا ! تم خود اپنی نماز مکمل کر لو گے ۔ میں نے کہا: میں اور ایک شخص اکھٹے سفر کر رہے ہوتے ہیں اور ہمیں ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ میری امامت کرے لیکن نماز کو مکمل نہیں کرتا تو کیا میں اُسے چھوڑ کر اکیلا نماز ادا کر لوں؟ عطا ء نے فرمایا: تم اس کے ساتھ نماز ادا کرو اور اس کے ساتھ نماز مکمل کر لو دو آدمیوں کا نماز ادا کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے اور تین کا میرے نزدیک دو سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔
ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Musannaf Abdul Razzaq · prayer book › Chapter of the Imam does not complete the prayer · Hadith 3804
