مصنف عبدالرزاق · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى السَّبْيِ · حديث 6632
عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَى السَّبْيِ، فَقَالَ: «صَلِّ عَلَى مَنْ صَلَّى مِنْهُمْ». قَالَ مَعْمَرٌ: «وَإِذَا صُلِّيَ عَلَى السَّبْيِ صُلِّي عَلَى وَلَدِهِ» عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ قَالَ: «إِذَا كَانَ الصَّبِيُّ مِنَ السَّبْيِ أَوْ غَيْرِهِمْ بَيْنَ أَبَوَيْهِ وَهُمَا مُشْرِكَانِ فَإِنَّهُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ أَبَوَيْهِ فَإِنَّهُ مُسْلِمٌ إِذَا مَاتَ وَهُوَ صَبِيٌّ يُصَلَّى عَلَيْهِ». قَالَ: وَقَالَ حَمَّادٌ: «إِذَا مَلَكْتَ الصَّبِيَّ فَهُوَ مُسْلِمٌ»
معمر نے ایک شخص کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے امام شعبی سے قیدی کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو اُنہوں نے جواب دیا: اُن قیدیوں میں سے جو شخص بھی نماز ادا کرتا ہو تم اُس کی نماز جنازہ ادا کرو۔ معمر کہتے ہیں: جب کسی قیدی کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی تو اُس کی اولاد کی بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ امام عبدالرزاق نے سفیان ثوری کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ جب کوئی بچہ کسی قیدی کا ہو یا اُس کے علاوہ کسی اور کا ہو اور اُس کے ماں باپ مشرک ہوں تو اُس بچہ کی نماز جنازہ ادا نہیں کی جائے گی اور اگر اُس ماں کے باپ مشرک نہیں ہیں تو وہ بچہ مر جائے تو مسلمان شمار ہو گا اور اُس بچہ کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔
رَجُلٌ: ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
Hadith 6632
